القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 53

۵۳ وَجَاءَ بِقُرْآنٍ مَّجِيدٍ مُكَمَّلٍ مُنِيرٍ فَنَوَّرَ عَالَمًا وَيُنَوِّرُ اور وہ مکمل قرآن مجید لے کر آیا جو روشنی بخشنے والا ہے۔ سو اس نے ایک دنیا کو منور کر دیا اور آئندہ بھی منور کرتا رہے گا۔ كِتَابٌ كَرِيمٌ حَازَ كُلَّ فَضِيلَةٍ وَيَسْقِي كَءُوسَ مَعَارِفٍ وَ يُوَفِّرُ وہ ایک عزت والی کتاب ہے جو تمام فضیلتوں کی جامع ہے۔ معارف کے جام پلاتی ہے اور وافر پلاتی ہے۔ وَ فِيهِ رَأَيْنَا بَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَفِيهِ وَجَدْنَا مَا يَقِي وَيُبَصِرُ اور اسی میں ہم نے ہدایت کے کھلے کھلے نشان پائے ہیں اور اسی میں ہم نے وہ بات پائی ہے جو بچاتی ہے اور بصیرت بخشتی ہے۔ كَعَيْنِ كَحِيلٍ زُيِّنَتْ صَفَحَاتُهُ بِنَاظِرَةٍ مِّنْ عِيْنِ خُلُدٍ يَنْظُرُ سرمگین آنکھ کی طرح اسکے صفحات مزین کئے گئے ہیں وہ ( قرآن ) جنت کی بڑی آنکھوں والی حوروں کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ طَرِيٌّ طَلَاوَتُهُ وَلَمْ تَعْفُ نُقْطَةٌ لِمَا صَانَهُ اللَّهُ الْقَدِيرُ الْمُوَقِّرُ اسکی تر و تازگی ہمیشہ ہی شاداب ہے اور اسکا ایک نقطہ بھی نہ مٹ سکا کیونکہ عزت بخش اور قدیر خدا نے اسکی حفاظت فرمائی ہے۔ فَيا عَجَبًا مِّنْ حُسْنِهِ وَجَمَالِهِ اَرَى أَنَّهُ دُرِّ وَ مِسْكٌ وَعَنبَرُ پس اس کا حسن اور جمال کیا ہی عجیب ہے۔ میں تو اس کو موتی ۔ کستوری اور عنبر ہی پاتا ہوں۔ وَ إِنَّ سُرُورِي فِي إِدَارَةِ كَاسِهِ فَهَلْ فِي النَّدَامَى حَاضِرٌ مَّنْ يُكَرِّرُ اور میری خوشی تو اس کے پیالہ کو گردش میں لانے میں رہی ہے۔ کیا ہم مجلسوں میں کوئی ہے جو بار بارلے؟ وَ رَيَّاهُ قَدْ فَاقَ الْحَدَائِقَ كُلَّهَا نَسِيمُ الصَّبَا مِنْ شَأْنِهِ تَتَحَيَّرُ اور اس کی خوشبو تمام باغوں پر فوقیت لے گئی ہے باد نسیم بھی اس کی شان سے حیران ہورہی ہے۔ إِذَا مَا تَلَا مِنْ آيَةٍ طَالِبُ الْهُدَى يَرَى نُورَهُ يَجْرِي كَعَيْنٍ وَ يَمْطُرُ جب ہدایت کا طالب اس کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو اس کے نور کو چشمے کی طرح بہتا ہوا پاتا ہے اور برستا ہوا بھی ۔ وَ فِيهِ مِنَ اللهِ اللَّطِيفِ عَجَائِبُ اُشَاهِدُ هَا فِي كُلِّ وَقْتٍ وَ انْظُرُ اور اس میں خدائے لطیف کے عجائبات ہیں جنہیں میں ہر وقت مشاہدہ کرتا اور دیکھتا ہوں۔