القصائد الاحمدیہ — Page 36
۳۶ وَ وَاللَّهِ يَأْتِي وَقْتُ تَصْدِيقِ كَلْمَتِي وَ يُبْدِى لَكَ الرَّحْمَنُ مَا كُنتَ تُضْمِرُ اور خدا کی قسم! میری باتوں کی تصدیق کا وقت آ جائے گا اور رحمن تجھ پر ظاہر کر دے گا جو تو دل میں چھپارہا تھا۔ فَلَا تَسْمَعَنْ مِّنْ بَعْدُ ذِبًا وَ عَقْرَبًا يَصُولُ بِوَتُبِ أَوْتَدِبُّ وَ تَابِرُ پس تو نہیں سنے گا اس کے بعد کسی بھیڑیے کے متعلق کہ وہ اچھل کر حملہ کرتا ہے اور بچھو کے متعلق جو رینگتا ہے اور ڈنگ مار دیتا ہے۔ مَقَامِي رَفِيعٌ فَوْقَ فِكْرِ مُفَكِّرٍ وَقَوْلِى عَمِيقٌ لَّا يَلِيْهِ الْمُصَعِرُ میرا مقام سوچنے والے کی سوچ سے بلند تر ہے اور میرا قول گہرا ہے اور تکبر سے منہ موڑنے والا اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ إِذَا قَلَّ عِلْمُ الْمَرْءِ قَلَّ اعْتِقَادُهُ وَمَا يَمُدَحَنُ حُسْنًا ضَرِيرٌ مُّعَدَّرُ جب انسان کا علم تھوڑا ہو تو اس کا اعتقاد بھی کمزور ہوتا ہے اور ایک انتہائی طور پر معذور اندھا تو حُسن کی تعریف نہیں کر سکتا۔ ا لَا رُبَّ مَجْدٍ قَدْ يُرى مِثْلَ ذِلَّةٍ إِذَا مَا تَعَالَى شَانُهُ الْمُتَسَبِّرُ آگاہ رہو کہ بہت سی عظمتیں ذلت کی طرح نظر آتی ہیں جبکہ ( در حقیقت ) ان کی چھپی ہوئی شان ( نگاہ سے بلند ہوتی ہے۔ اَلَمْ تَعْلَمَنْ أَنِّي جَرِيٌّ مُّبَارِزُ وَإِنْ كُنْتَ فِي شَيِّ فَبَارِزُ فَنَحْضُرُ کیا تو نہیں جانتا کہ میں ایک بہادر جنگجو ہوں اور اگر تجھے شک ہو تو مقابلہ میں نکل تو ہم بھی آجائیں گے۔ وَ بَارَزْتُ أَحْزَابَ النَّصَارَى كَضَيْغَمِ بِأَيْدٍ وَفِي الْيُمْنَى حُسَامٌ مُّشَهَّرُ اور میں نے نصاری کے گروہوں سے شیر کی طرح مقابلہ کیا۔ پوری قوت سے جبکہ میرے دائیں ہاتھ میں کچھی ہوئی تلوار تھی۔ وَ مَا زِلْتُ اَرْمِيهِمْ بِرُمْحٍ مُّذَرَّبٍ إِلَى أَنْ أَبَانَ الْحَقُّ وَ الْحَقُّ أَظْهَرُ اور میں انہیں تیز نیزے بھی مارتا رہا یہاں تک کہ حق ظاہر ہو گیا اور حق ہی غالب آنے والا ہے۔ وَإِنَّا إِذَا قُمْنَا لِصَيْدِ اَوَابِدٍ فَلَا الظَّبَى مَتْرُوفٌ وَّلَا الْعَيْرُ يُنظَرُ اور جب ہم وحشیوں کا شکار کرنے لگتے ہیں تو نہ ہرن چھوڑا جاتا ہے اور نہ کسی گورخر کو ڈھیل دی جاتی ہے۔ وَقَتْلُ خَنَازِيرِ الْبَرَارِى وَخَرْشُهُمُ اشُاشُ لِقَلْبِي بَلْ مَرَامٌ أَكُبَرُ اور جنگلی خنزیروں کا قتل کرنا اور انہیں زخمی کرنا میرے دل کی خوشی ہے بلکہ مقصود اعظم ہے۔