القصائد الاحمدیہ — Page 32
۳۲ وَدُودٌ يُحِبُّ الطَّائِعِينَ تَرَدُّمًا مَلِيكٌ فَيُزْعِجُ ذَا شِقَاقٍ وَ يَحْصِرُ وہ بہت محبت کرنے والا ہے۔ فرمانبرداروں سے از راہ شفقت پیار کرتا ہے۔ وہ بادشاہ ہے سو وہ مخالف کو مضطرب کر دیتا ہے اور گھیرے میں لے لیتا ہے۔ يُحِيطُ بِكَيْدِ الْكَائِدِينَ بِعِلْمِهِ فَيُهْلِكُ مَنْ هُوَ فَاسِقٌ وَ مُزَوِّرُ وہ اپنے علم سے مکاروں کے مکر کا احاطہ کر لیتا ہے سو وہ اس شخص کو جو فاسق اور فریبی ہو ہلاک کر دیتا ہے۔ وَ لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَا كُفُوّ لَّهُ وَحِيدٌ فَرِيدٌ مَّا دَنَاهُ التَّكَثُرُ نہ اس نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔ وہ یگانہ اور یکتا ہے۔ کثرت اس کے قریب بھی نہیں آئی۔ وَ مَنْ قَالَ إِنَّ لَهُ اِلهَا قَادِرًا سِوَاهُ فَقَدْ نَادَى الرَّدَى وَيُدَمَّرُ اور جو شخص کہے کہ اس کا ایک قادر معبود اس کے سوا ہے تو اس نے ہلاکت کو پکارا اور وہ ہلاک کیا جائے گا۔ وَ بَشَّرَنِي قَبْلَ الْجِدَالِ بِلُطْفِهِ فَقَالَ لَكَ الْبُشْرَى وَ أَنْتَ الْمُظَفَرُ اور مقابلہ سے پہلے ہی اس نے اپنی مہربانی سے مجھے بشارت دے دی۔ سو کہا: تجھے بشارت ہو تو ہی کامیاب ہونیوالا ہے۔ فَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ مِنِّي تَذَلُّلًا وَقَصَدْتُ عَنْبَرُ سَرَ وَ قَطْرِيَ يَمْطُرُ تب میری آنکھوں سے عاجزی سے آنسو جاری ہو گئے اور میں نے اس حال میں امرتسر کا ارادہ کیا کہ میرے آنسوؤں کی جھڑی لگ رہی تھی۔ فَجِئْتُ النَّصَارَى فِي مَقَامِ جُلُوسِهِمْ فَتَخَيَّرُوا مِنْهُمْ خَصِيمًا وَأَنْظُرُ پس میں نصاری کے پاس انکی جلسہ گاہ میں پہنچ گیا اور میں دیکھ رہا تھا کہ انہوں نے اپنے میں سے ایک بحث کر نیوالے کا انتخاب کیا ہے۔ وَظَلَّ النَّصَارَى يَنْصُرُونَ وَكِيْلَهُمْ وَكُلِّ تَسَلَّحَ صَائِلًا لَّوْ يَقْدِرُ مسلم اور نصاری اپنے وکیل کو مدد دینے لگ گئے اور اگر بس چلتا تو ہر شخص حملہ آور ہونے کے لئے سلح ؟ ح ہو جاتا۔ رَأَيْتُ مُبَارِزَهُمْ كَذِئْبٍ بِظُلْمِهِ يَصُولُ عَلَى سُبُلِ الْهُدَى وَيُزَوِّرُ میں نے انکی طرف سے مقابلہ کر نیوالے کو ا سکے ظلم کی وجہ سے بھیڑیے کی طرح پایا جو ہدایت کی راہوں پر حملہ کرتا تھا اور مکر سے کام لے رہا تھا۔ فَخَاصَمَ ظُلْمًا فِي ابْنِ مَرْيَمَ وَاجْتَرَى عَلَى اللَّهِ فِيمَا كَانَ يَهْذِي وَ يَهْجُرُ اس نے ابن مریم کے بارے میں ظلم سے جھگڑا کیا اور جرات کی اللہ اللہ پر اسی بات میں جو وہ بک رہا تھا اور جمہ جو وہ بک رہا تھا اور جس میں بے ہودگی دکھا رہا تھا۔