القصائد الاحمدیہ — Page 369
۳۶۹ فَصِرْتُ لَهُمْ عِيسَى إِذَا مَا تَهَوَّدُوا وَهَذَا كَفَى مِنِّى لِقَوْمٍ تَفَكَّرُوا پس جب وہ یہودی بن گئے تو میں ان کے لئے عیسی بن گیا اور اس قدر بیان میری طرف سے کافی ہے ان کیلئے جو سوچتے ہیں ۔ وَقَدْ تَمَّ وَعُدُ نَبِيِّنَا فِي حَدِيثِهِ إِذَا جَاءَ هُمُ مِنْهُمْ إِمَامٌ يُذَكِّرُ اور بہ تحقیق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ جو حدیث میں تھا پورا ہو گیا جبکہ مسلمانوں میں انہیں میں سے ایک امام آیا جو نصیحت کرتا اور یاد دلاتا ہے۔ اَبَارُوا عَوَامَ النَّاسِ مِنْ سَمٌ مَنْطِقٍ وَجَاءُوا بِبُهْتَان عَلَيْنَا وَ زَوَّرُوا باتوں کے زہر سے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور ہم پر بہتان لگائے اور جھوٹ بولا ۔ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ خِيَانَةً يُخَالِفُ فِي الْحَالَاتِ بَيْتٌ وَّمِنْبَرُ وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں اور روحانیت کے حالات کی رو سے ان کے گھر اور انکے منبر میں بڑا فرق ہے۔ ا لَا رُبَّ قَوَّالٍ يُسِرُّكَ قَوْلُهُ وَلَوْ تَنْظُرَنَّ الْوَجْهَ سَاءَكَ مَنْظَرُ کئی بہت باتیں کر نیوالے ایسے ہیں کہ ان کی بات تجھے اچھی معلوم ہوگی مگر جب تو انکا منہ دیکھے گا تو تجھے وہ برا معلوم ہوگا۔ تَرَى الْعَيْنُ مَاهُوَ ظَاهِرٌ غَيْرُ كَاتِمٍ وَمَا تَنْظُرُ الْعَيْنَانِ مَا هُوَ يُسْتَرُ آنکھ صرف اس کو دیکھتی ہے جو ظاہر ہے پوشیدہ نہیں اور پوشیدہ چیز کو آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں ۔ وَفِيهِمْ وَإِنْ قِيلَ اهْتَدَيْنَا غَوَايَةٌ وَكِبُرٌ بِهِ يَنْمُو الضَّلَالُ وَيُثْمِرُ اور ان میں اگر چہ وہ کہیں کہ ہم ہدایت پاگئے ایک گمراہی ہے اور تکبر ہے جس کے ساتھ گمراہی نشو و نما پاتی اور پھل لاتی ہے۔ أنَاسٌ أَضَاعُوا دِينَهُمْ مِنْ رُعُونَةٍ وَ أَهْوَاءَ دُنْيَاهُمْ عَلَى الدِّينِ آثَرُوا وہ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے تکبر سے دین کو ضائع کیا اور دنیا کی خواہشوں کو دین پر اختیار کر لیا۔ تَأَلَّمَ قَلْبِي مِنْ أَعَاصِيرِ جَهْلِهِمْ فَفِي الصَّدْرِ حَزَّازُ وَفِي الْقَلْبِ خَنْجَرُ ان کی جہالت کی آندھیوں سے میرا دل دردناک ہو گیا پس سینہ میں ایک سوزش اور خلش ہے اور دل میں تلوار ہے۔ لَهُمْ سَلَفٌ قَدْ أَخْطَلُّوا فِي بَيَانِهِمْ فَهُمْ أَثَرُوا آثَارَهُمْ وَتَخَيَّرُوا ان کے ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے اپنے بیان میں خطا کی پس انہوں نے ان کے آثار کو اختیار کر لیا۔