القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 367

۳۶۷ اَنَارَتْ بِنُورِ الاِتِّقَاءِ وُجُوهُهُمْ فَتَعْرِفُهُمْ عَيْنَاكَ لَوْلَا التَّكَدُّرُ تقوی کے نور کے ساتھ ان کے منہ روشن ہو گئے پس تیری آنکھیں انکو پہچان لیں گی اگر کدورت لاحق حال نہ ہو۔ يُمِيلُونَ قَلْبَ الْخَلْقِ نَحْوَ نُفُوسِهِمْ بِنَاظِرِةِ تَصْبُو إِلَيْهَا الْخَوَاطِرُ لوگوں کے دل اپنی طرف مائل کر دیتے ہیں اس آنکھ کے ساتھ کہ اس کی طرف دل میل کرتے ہیں۔ كَأَنَّ حَيَاتَ الْقَوْمِ تَحْتَ حَيَاتِهِمْ بِهِمْ زَرْعُ دِيْنِ اللَّهِ يَبْدُو وَيَجْدُرُ گویا قوم کی زندگی ان کی زندگی کے نیچے ہے ان کے ساتھ دین کا کھیت ظاہر ہوتا اور اپنا سبزہ نکالتا ہے۔ وَإِنْ كُنْتَ تَبْغِى زَوْرَهُمْ زُرُ بِخُلَّةٍ وُجُوهٌ مِنَ الْأَغْيَارِ تُخْفَى وَتُسْتَرُ پس اگر تو انکو دیکھنا چاہتا ہے تو دوستی کے ساتھ دیکھ وہ ایسے منہ ہیں جو غیروں سے چھپائے جاتے ہیں۔ كَذَلِكَ طَلَعَتْ شَمْسُنَا فِي سَتَارَةٍ فَقُلْتُ امْكُثِى حَتَّى أُنِيرَ وَأَبْهَرُ اسی طرح ہمارا سورج پردہ میں چڑھا۔ پس میں نے سورج کو کہا کہ ٹھیر جا جب تک میں روشن ہو جاؤں دوسری روشنیوں پر غالب ہو جاؤں۔ وَلَسْنَا بِمَسْتُورٍ عَلَى عَيْنِ طَالِبٍ يَرَانَا الَّذِي يَأْتِي وَيَرْنُو وَيَنْظُرُ اور ہم ڈھونڈنے والے کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں ہیں ہمیں وہ شخص دیکھ لیگا جو آئیگا اور نظر کرنے میں طریق مداومت اختیار کریگا۔ وَلَا جَبْرَ إِنْ تَكْفُرُ وَإِنْ كُنْتَ مُؤْمِنًا فَحَسْبُكَ مَا قَالَ الْكِتَابُ الْمُطَهَّرُ اور اگر تو انکار کرے تو تیرے پر کوئی جبر نہیں اور اگر تو ایمان لاوے تو ایمان کے لئے تجھے کتاب اللہ کافی ہے۔ وَوَاللَّهِ لَا انْسَى هُمُومًا لَقِيتُهَا بِتَكْفِيرِ قَوْمِي حِيْنَ اذَوْا وَكَفَرُوا اور بخدا ! میں ان غموں کو نہیں بھولتا جو میں نے دیکھے باعث تکفیر قوم کے جبکہ انہوں نے مجھے دکھ دیا اور کا فرٹھیرایا۔ عَلَى صَادِقٍ فَأْسٌ مِنَ الظُّلْمِ وَالْآذِى فَكَيْفَ كَذُوبٌ مِنْ يَدِ اللَّهِ يُسْتَـرُ صادق پر ظلم اور ایذاء کا تبر چل رہا ہے پس کیونکر جھوٹا خدا کے ہاتھ سے چھپ جائے گا۔ عَلَى مَوْتِ عِيسَى صَارَ قَوْمِي كَحَيَّةٍ وَكَمْ مِّنْ سُمُوْمٍ أَخْرَجُوهَا وَأَظْهَرُوا عیسی کی موت پر میری قوم سانپ کی طرح ہو گئی اور بہت سی زہریں نکالیں اور ظاہر کیں۔