القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 332

۳۳۲ لَنَا جَنَّةٌ سُبُلُ الْهُدَى اَزْهَارُهَا نَسِيمُ الصَّبَا مِّن شَأْنِهَا تَتَحَيَّرُ ہمارے لئے ایک بہشت ہے کہ ہدایت کی راہیں اس کے پھول ہیں۔ اور نسیم صبا اس کی شان سے حیران ہورہی ہے۔ تَكَدَّرَ مَاءُ السَّابِقِينَ وَعَيْنُنَا إِلَى آخِرِ الأَيَّامِ لَا تَتَكَدَّرُ پہلوں کا پانی مکر رہو گیا۔ اور ہمارا پانی اخیر زمانہ تک مکد رنہیں ہوگا۔ رَأَيْنَا وَأَنْتُمْ تَذْكُرُونَ رُوَاتَكُمْ وَهَلْ مِنْ نُّقُولٍ عِنْدَ عَيْنٍ تُبَصَّرُ ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو۔ اور کیا قصے دیکھنے کے مقابل پر کچھ چیز ہیں؟ وَ شَانَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ حُسَيْنِكُمْ فَإِنِّي أُؤَيَّدُ كُلَّ أَن وَّ انْصَرُ اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مد دل رہی ہے۔ وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَاذْكُرُوا دَشْتَ كَرْبَلَا إِلَى هَذِهِ الأَيَّامِ تَبْكُونَ فَانظُرُوا مگر حسین، پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔ وَ إِنِّي بِفَضْلِ اللَّهِ فِي حُجْرِ خَالِقِي أَرَبَّى وَ أَعْصَمُ مِنْ لِيَامٍ تَنَمَّرُوا اور میں خدا کے فضل سے اس کے کنار عاطفت میں پرورش پارہا ہوں اور ہمیشہ لیموں کے حملہ سے جو پلنگ صورت ہیں بچایا جاتا ہوں ۔ وَإِنْ يَأْتِنِي الْأَعْدَاءُ بِالسَّيْفِ وَالْقَنَا فَوَاللَّهِ إِنِّي احْفَظَنَّ وَأَظْفَرُ اور اگر دشمن تلواروں اور نیزوں کے ساتھ میرے پاس آویں ۔ پس بخدا میں بچایا جاؤں گا اور مجھے فتح ملے گی ۔ وَإِنْ يَلْقَنِي خَصْمِي بِنَارٍ مُّذِيبَةٍ تَجِدُنِي سَلِيمًا وَّ الْعَدُوُّ يُدَمَّرُ اور اگر میرا دشمن ایک گداز کرنے والی آگ میں مجھے ڈال دے۔ تو مجھے سلامت پائے گا اور دشمن ہلاک ہو گا۔ وَ أَوْعَدَنِي قَوْمٌ لِّقَتْلِى مِنَ الْعِدَا فَادْرَكَهُمْ قَهُرُ الْمَلِيْكِ وَخُسِّرُوا اور بعض دشمنوں نے مجھے قتل کرنے کے لئے وعدہ کیا۔ پس خدا کے قہر نے ان کو پکڑ لیا اور وہ زیاں کا رہو گئے ۔ كَذَالِكَ تَبْغِي قَهُرَ رَبِّ مُّحَاسِبٍ وَمَا إِنْ أَرَى فِيْكَ الْكَلَامَ يُؤَكِّرُ اسی طرح تو بھی خدائی حساب لینے والے سے قہر طلب کر رہا ہے۔ اور میں نہیں دیکھتا کہ تجھ میں کلام اثر کرے۔