القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 317

۳۱۷ كَذَبْتَ بِمُدٌ عَامِدًا فَتَمَايَلَتْ عَلَيْكَ شَطَايِبُ جَاهِلِينَ وَتَوَّرُوا تو نے موضع محمد میں قصد اجھوٹ بولا ۔ پس جاہل لوگ تیری طرف جھک گئے اور شور ڈالا۔ وَ وَاللَّهِ فِي الْقُرْآنِ كُلُّ حَقِيقَةٍ وَ آيَاتُهُ مَقْطُوعَةٌ لَّا تَغَيَّرُ اور بخدا! قرآن شریف میں ہر ایک حقیقت ہے۔ اور اُس کی آیتیں قطعی ہیں جو بدلتی نہیں۔ مَعِينٌ مَّعِينُ الْخُلْدِ نُورُ مُعِيُنِنَا هُدَاهُ نَمِيرُ الْمَاءِ لَا يَتَكَدَّرُ وہ صاف پانی ہے، بہشت کا پانی ہمارے خدا کو ٹور۔ ہدایت اُس کی صاف زلال ہے مکہ رنہیں۔ ارى آيَهُ كَالْعِيدِ جَاءَتْ مِنَ السَّمَاءِ وَفِيهَا شِفَاءٌ لِلَّذِي يَتَدَبَّرُ اُس کی آیتیں حسین ہیں جو آسمان سے اُتریں۔ اور ان آیتوں میں فکر کرنے والوں کے لئے شفا ہے۔ وَيُصْبِي قُلُوبَ النَّاسِ بِالنُّورِ وَالْهُدَى وَيُرْوِي الْعَطَاشِي بِالْمَعِينِ وَيَظْتَرُ اور لوگوں کے دل اپنے نور کے ساتھ کھینچ رہا ہے۔ اور پیاسوں کو صاف پانی سے سیراب کر رہا ہے اور دائیوں کی طرح دُودھ پلاتا ہے۔ وَقَدْ كَانَ صُحُفٌ قَبْلَهُ مِثْلَ خَادِجٍ فَجَاءَ لِتَكْمِيلِ الْوَرَى لِيُغَزَّرُ اور اس سے پہلی کتا میں اُس اُونٹنی کی طرح تھیں جو قبل از ولادت بچہ دیتی ہے پس قرآن لوگوں کے کامل کرنے کیلئے آیا تا ایک بار ہی تمام دودھ دو ہا جائے ۔ بِلَيْلٍ كَمَوْجِ البَحْرِ أَرْخَى سُدُولَهُ تَجَلَّى وَأَدْرَى كُلَّ مَنْ كَانَ يُبْصِرُ ایسی رات میں آیا جو سمندری موج کی طرح اپنی چادر پھیلا رکھے تھی سواس نے آکر زمانہ کو روشن کردیا اور ہر ایک جود یکھ سکتا تھا اس کو دکھا دیا۔ أَيَا أَيُّهَا الْمُغْوِى اَتُنْكِرُ شَأْنَهُ وَمَا فِي يَدَيْنَا غَيْرُهُ يَا مُزَوِّرُ اے گمراہ کر نیوالے! کیا تو قرآن کی شان سے انکار کرتا ہے۔ اور بحجز قرآن ہمارے ہاتھ میں کیا ہے؟ (اے جھوٹ گھڑنے والے!)۔ لِقَوْمٍ هَذَى لَا بَارَكَ اللهُ مُدَّهُمْ جَهُولٌ فَأَذَى حَقَّ كِذُبٍ فَأَبْشَرُوا اس شخص نے ایک قوم کی خاطر کیلئے بکو اس کی ۔ خدا ان کے مد کو برکت نہ دے۔ پیشخص جاہل ہے اس نے درونگو ئی کا حق ادا کر دیا اس لئے وہ لوگ خوش ہو گئے ۔ لَهُ جَسَدٌ لَّا رُوحَ فِيْهِ وَلَا صَفَا كَقِدْرٍ يَجُوشُ وَلَيْسَ فِيهِ تَدَبُّرُ یہ صرف ایک جسم ہے جس میں جان نہیں اور نہ صفا۔ اور ایک ہنڈیا کی طرح جوش مارتا ہے۔ کچھ تدبر نہیں کرتا۔