القصائد الاحمدیہ — Page 315
۳۱۵ وَشَاهَدتَ أَنَّ الْقَوْمَ كَيْفَ تَدَاكَثُوا عَلَى وَكَيْفَ رَمَوْا سِهَامًا وَ جَمَّرُوا اور تو نے دیکھ لیا کہ قوم نے کیسے میرے پر بلوے کئے اور کیسے انہوں نے تیر چلائے اور کیسے وہ لڑائی پر جمے۔ رَمَوْا كُلَّ صَخْرٍ كَانَ فِي اذْيَالِهِمْ بِغَيْظِ فَلَمْ أَقْلَقُ وَلَمْ أَتَحَيَّرُ جس قدر پتھر ان کے دامن میں تھے سب پھینک دیئے۔ اور یہ کام غصہ کے ساتھ کیا۔ پس میں نہ بیقرار ہوا اور نہ حیران ہوا۔ وَجُرِّحَ عِرْضِي مِنْ رِمَاحٍ اِهَانَةٍ وَأُلْقِيَ مِنْ سَبِّ إِلَى الْخَنْجَرُ اور میری آبرواہانت کے نیزوں سے زخمی کی گئی اور دُشنام دہی سے میری طرف خنجر پھینکے گئے۔ وَقَالُوا كَذُوبٌ مُّفْئِدٌ غَيْرُ صَادِقٍ فَقُلْنَا اخْسَبُوا إِنَّ الْخَفَايَا سَتَظْهَرُ اور انہوں نے کہا یہ جھوٹا دروغ گو ہے سچا نہیں ۔ ہم نے کہا کہ تم سب دفع ہو۔ آخر یہ خفی حقیقت ظاہر ہو جائے گی۔ وَسَبُّوا وَ أَذَوْنِي بِأَنْوَاعِ سَبِّهِمْ وَ سَمَّوْنِ دَجَّالًا وَسَمَّوْنِ أَبْتَرُ اور مجھے گالیاں دیں اور طرح طرح کی گالیوں سے دُکھ دیا۔ اور میرا نام دجال رکھا اور میرا نام شر محض رکھا جس میں کوئی خیر نہیں ۔ وَ سَمَّوْنِ شَيْطَانًا وَ سَمَّوْنِ مُلْحِدًا وَ سَمَّوْنِ مَلْعُونَا وَ قَالُوا مُزَوِّرُ اور میرا نام شیطان رکھا اور میرا نام ملحد رکھا۔ اور میرا نام لعنتی رکھا اور کہا کہ یہ ایک دروغ باف آدمی ہے۔ فَصِرْتُ كَانّى لِلرِّمَاحِ دَرِيَّةٌ وَأُوذِيْتُ حَتَّى قِيلَ عَبْدٌ مُّحَقَّرُ پس میں ایسا ہو گیا کہ میں تیروں کا نشانہ ہوں ۔ اور میں دُکھ دیا گیا یہاں تک کہ لوگوں نے کہا کہ یہ نہایت حقیر انسان ہے۔ وَمَا غَادَرُوا كَيْدًا لِّدَوْسِي وَبَعْدَهُ عَلَى حَضُّوا زُمْعَ الْأَنَاسِ وَتَوَّرُوا اور میرے کچلنے کیلئے کسی مکر کوا ٹھا نہ رکھا اور بعد اس کے۔ میرے پر کمپین لوگوں کو مشتعل کیا اور برانگیختہ کیا۔ وَلَكِنْ مَالُ الْأَمْرِ كَانَ هَوَانُهُمْ وَأُنْزِلَ لِي أَي تُنِيرُ وَتَبْهَرُ مگر انجام کاران کی رسوائی ہوئی۔ اور میرے لئے وہ نشان ظاہر کئے گئے جو روشن اور غالب تھے۔ فَأَوْصِيكَ يَارِدْفَ الْحُسَيْنِ اَبَا الْوَفَا اَنِبُ وَاتَّقِ اللَّهَ الْمُحَاسِبَ وَاحْذَرُ پس میں تجھے نصیحت کرتا ہوں اے محمد حسین کے پیچھے چلنے والے ۔ خدا کی طرف توبہ کر اور اُس مُحاسِب سے ڈر۔