القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 312

وَ إِنَّ كَلَامِي صَادِقٌ قَوْلُ خَالِقِي وَمَنْ عَاشَ مِنْكُمُ بُرْهَةً فَسَيَنْظُرُ اور میرا کلام سچا ہے اور میرے خدا کا قول ہے۔ اور جو شخص تم میں سے کچھ زمانہ زندہ رہے گا وہ دیکھ لے گا۔ ا تَعْجَبُ مِنْ هَذَا فَلَا تَعْجَبَنُ لَّهُ كَلَامٌ مِّنَ الْمَوْلَى وَ وَحْيٌ مُطَهَّرُ کیا تو اس سے تعجب کرے گا پس کچھ تعجب نہ کر ۔ یہ خدا کا کلام ہے اور پاک وحی ہے۔ وَمَا قُلْتُهُ مِنْ عِنْدِ نَفْسِى كَرَاجِمٍ أُرِيتُ وَمِنْ أَمْرِ الْقَضَا أَتَحَيَّرُ اور میں نے اپنے ہی دل سے اٹکل سے بات نہیں کی۔ بلکہ کشفی طور پر مجھے دکھلایا گیا اور میں اس سے حیران ہوں ۔ اَقَلْبُ حُسَيْنٍ يَهْتَدِى مَنْ يَظُنُّهُ عَجِيبٌ وَعْنَدِ اللَّهِ هَيْنٌ وَ أَيْسَرُ کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آ جائے گا یہ کون گمان کر سکتا ہے؟۔ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے۔ فَلةُ أَشْخَاصِ بِهِ قَدْ رَأَيْتُهُمْ وَمِنْهُمُ الهِي بَخْشُ فَاسْمَعُ وَ ذَكِّرُ لک تین آدمی اس کے ساتھ اور ہیں۔ ایک اُن میں سے الہی بخش اکو نٹنٹ ملتانی ہے پس سُن اور سُنا دے۔ لَعَمْرُكَ ذُقْنَا دُونَ ذَنْبٍ رِمَاحَهُمْ فَمَا سَرَّنَا إِلا دُعَاءُ يُكَرَّرُ تیری قسم! کہ ہم نے بغیر گناہ کے ان کے نیزوں کا مزہ چکھا۔ پس ہمیں یہی اچھا معلوم ہوا کہ اُن کے حق میں دعا کرتے ہیں۔ مَتَى ذُكِّرُوا يَغْتَمُّ قَلْبِي بِذِكْرِهِمْ بِمَا كَانَ وَقُتٌ بِالْمُلَا قَاةِ نُبْشِرُ جب وہ ذکر کئے جاتے ہیں تو میرا دل غمناک ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یاد آتا ہے کہ ایک دن ہم ملاقات سے خوش ہوتے تھے۔ ا أُرْضِعْتَ مِنْ غُولِ الْفَلَا يَا أَبَا الْوَفَا فَمَالَكَ لَا تَخْشَى وَلَا تَتَفَكَّرُ کیا تجھے جھوٹ کا دودھ پلایا گیا ؟ اے شاء اللہ ! ۔ پس تجھے کیا ہو گیا کہ نہ ڈرتا ہے نہ فکر کرتا ہے۔ تَرَكْتُمُ سَبِيلَ الْحَقِّ وَالْخَوْفِ وَالْحَيَا وَجُزُتُمْ حُدُودَ الْعَدْلِ وَاللَّهُ يَنْظُرُ تم نے حق کو چھوڑ دیا۔ اور عدل سے باہر ہو گئے اور اللہ دیکھتا ہے۔ وَكَيْفَ تَرى نَفْسٌ حَقِيقَةَ وَحْيِنَا يُصِرُّ عَلَى كِذَّبٍ وَّ بِالسُّوءِ يَجْهَرُ ایسا آدمی ہماری وحی کی حقیقت کیا جانتا ہے۔ جو جھوٹ پر اصرار کرتا ہے اور کھلی بد گوئی کرتا ہے۔ له الله