القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 22

۲۲ وَمَا نَالُوكَ نُصْحَا يَا حَبِيبِي وَجَاهَدْنَا لِيَرْتَبِطَ النِّصَاحُ اور اے میرے دوست ! ہم تیری خیر خواہی میں کمی نہیں کرتے اور ہم نے تو کوشش کی ہے کہ خیر خواہی کے تعلقات مضبوط ہوں ۔ وَنُصْحِي خَالِصٌ لَا نَوْعُ هَزُلٍ وَجِدٌ لَا يُخَالِطُهُ الْمَزَاحُ اور میری خیر خواہی خالص ہے بیہودہ قسم کی نہیں اور سنجیدہ ہے جس میں کوئی ہنسی مذاق شامل نہیں ۔ فَيَاحِبِّي تَفَكَّرُ فِي كَلَامِي فَإِنَّ الْفِكْرَ لِلتَّقْوَى وَشَاحُ سواے میرے دوست ! میرے کلام میں سوچ سے کام لے کیونکہ غور و فکر تو اتقویٰ کا مزین ہار ہے۔ وَلِي وَجُدٌ لِقَوْمِي فَوْقَ وَجُدٍ وَمَا وَجُدُ الفَوَاكِلِ وَالنِّيَاحُ اور مجھے درد ہے اپنی قوم کیلئے ہر درد سے بڑا۔ اور ان عورتوں کے درد کو جنکے بچے مرجائیں اور انکے رونے چلانے کو میرے درد سے کیا نسبت۔ إِلَيْكُمْ يَا أُولِى مَجْدٍ إِلَيْكُمْ وَإِن لَّمْ تَنْتَهُوا فَالْوَقْتُ لَاحُ باز آ جاؤ اے بزرگو! باز آ جاؤ۔ اگر تم باز نہ آؤ تو وقت ملامت کرے گا۔ وَلِى قَدْرٌ عَظِيمٌ عِنْدَ رَبِّى وَسُلِي لَا يُرَدُّ وَلَا يُزَاحُ اور میرے رب کے حضور میں میرا بڑا مرتبہ ہے اور میری دعا رد نہیں کی جاتی اور نہ ہی ٹالی جاتی ہے۔ وَمِثْلِى حِينَ يَبْكِي فِي دُعَاء فَيَسْعَى نَحْوَهُ فَضْلٌ مُّتَاحُ اور میرے جیسا آدمی جب دعا میں روتا ہے تو اس کی طرف فضل مقدر دوڑ کر آتا ہے۔ وَ كَادَتْ تَلْمَعَنْ أَنْوَارُ شَمْسِي فَيَتُبَعُهَا الْوَرَى إِلَّا الْوَقَاحُ اور قریب ہے کہ میرے سورج کے انوار چمکیں اور پھر سوائے بے شرم کے سارا جہان ان کے پیچھے چلے گا۔ وَيَاتِي يَوْمُ رَبِّي مِثْلَ بَرْقٍ فَلَا تَبْقَى الْكِلَابُ وَلَا النُّبَاحُ اور میرے رب کا دن بجلی کی طرح آئے گا۔ پس نہ کتے باقی رہیں گے نہ ہی ان کا بھونکنا۔ وَلِي مِنْ لُطْفِ رَبِّى كُلَّ يَوْمٍ مَرَاتِبُ ، لِلْعِدَا فِيهَا افْتِضَاحُ اور میرے لئے اپنے رب کی مہربانی سے ہر روز ایسے مدارج ہیں کہ دشمنوں کے لئے ان میں رسوائی ہی رُسوائی ہے۔