القصائد الاحمدیہ — Page 308
٣٠٨ لک وَجِئْنَاكَ كَالْمَوْتَى فَاحْيِ أُمُورَنَا نَخِرُّ اَمَامَكَ كَالْمَسَاكِينِ فَاغْفِرْ اور ہم مردوں کی طرح تیرے پاس آئے ہیں پس ہمارے کاموں کو زندہ کر ہم تیرے آگے مسکینوں کی طرح گرتے ہیں پس ہمیں بخش دے۔ الهى فَدَتْكَ النَّفْسُ إِنَّكَ جَنَّتِي وَمَا أَنْ اَرى خُلْدًا كَمِثْلِكَ يُثْمِرُ اے خدا ! میری جان تیرے پر قربان تو میری بہشت ہے۔ اور میں نے کوئی ایسی بہشت نہیں دیکھی کہ تیر ۔ کہ تیرے جیسا پھل لاوے۔ طُرِدْنَا لِوَجْهِكَ مِنْ مَّجَالِسِ قَوْمِنَا فَأَنْتَ لَنَا حِبُّ فَرِيدٌ وَ مُوثَرُ اے میرے خدا! تیرے منہ کیلئے ہم اپنی قوم کی مجلسوں سے رڈ کر دیئے گئے ۔ پس تو ہمارا یگا نہ دوست ہے جو سب پر اختیار کیا گیا۔ الهِي بِوَجْهِكَ اَدْرِكِ الْعَبْدَ رَحْمَةً وَلَيْسَ لَنَا بَابٌ سِوَاكَ وَمَعْبَرُ اے میرے خدا! اپنے منہ کے صدقہ اپنے بندہ کی خبر لے۔ اور ہمارے لئے تیرے سوا نہ کوئی دروازہ اور نہ کوئی جائے گذر ہے۔ إِلى أَيِّ بَابِ يَا إِلهِي تَرُدُّنِى وَمَنْ جِئْتُهُ بِالرِّفْقِ يَزْرِ وَيَصْعَرُ اے میرے خدا! تو کس کے دروازہ کی طرف مجھے رڈ کرے گا۔ اور میں جس کے پاس نرمی کے ساتھ جاؤں وہ بد گوئی کرتا اور منہ پھیر لیتا ہے۔ صَبَرْنَا عَلَى جَوْرِ الْخَلَائِقِ كُلِّهِمْ وَلَكِنْ عَلَى هَجْرٍ سَطَا لَا نَصْبِرُ ہم نے تمام دنیا کا ظلم برداشت کر لیا۔ مگر تیری جدائی کی ہمیں برداشت نہیں۔ تَعَالَ حَبِيبِي أَنْتَ رَوْحِي وَرَاحَتِي وَإِنْ كُنْتَ قَدْ أَنَستَ ذَنْبِي فَسَبِّرُ آمیرے دوست ! تو میری راحت اور میرا آرام ہے۔ اور اگر تو نے میرا کوئی گناہ دیکھا ہے تو معاف کر۔ بِفَضْلِكَ إِنَّا قَدْ عُصِمُنَا مِنَ الْعِدَا وَإِنَّ جَمَالَكَ قَاتِلِي فَاتِ وَانْظُرُ تیرے فضل سے ہم دشمنوں سے بچائے گئے ۔ مگر تیرے جمال نے ہمیں قتل کر دیا۔ پس آ اور دیکھ۔ وَفَرِّجُ كُرُوبِي يَا إِلهِي وَنَجِّنِي وَ مَزِّقٌ خَصِيمِي يَا نَصِيرِى وَ عَفْرُ اور میرے غم ! اے میرے خدا! دور فرما۔ اور دشمن میرے کو اے میرے مددگار ! پارہ پارہ کر اور خاک میں ملا۔ وَجَدْنَا كَ رَحْمَانًا فَمَا الْهَم بَعْدَهُ رَأَيْنَاكَ يَاحِي بِعَيْنِ تُنَوَّرُ ہم نے تجھے رحمان پایا۔ پس بعد اس کے کوئی غم نہ رہا۔ دیکھا ہم نے تجھ کو اُس آنکھ سے جو روشن کی جاتی ہے۔