القصائد الاحمدیہ — Page 306
۳۰۶ بِأَجْنِحَةِ الأَشْوَاقِ جِئْنَا فِنَاءَكُمْ بِمَا قُدِّمَتْ مِنْكُمْ عَطَايَا فَنَحْضُرُ ہم شوق کے بازوؤں کے ساتھ تمہارے گھر آئے ہیں۔ کیونکہ تمہارے احسان ہم پر ہیں اسلئے ہم حاضر ہوئے ہیں۔ وَ إِنْ كُنْتَ قَدْ سَاءَ تُكَ اَمْرُ خِلَافَتِي فَسَلُ مُرْسِلِي مَا سَاءَ قَلْبَكَ وَاحْصُرُ اور اگر تجھے میری خلافت بری معلوم ہوئی ہے۔ تو پھر میرے بھیجنے والے کو بہت اصرار سے پوچھ کہ کیوں ایسا کیا ؟ ا تُنْكِرُنِي وَاللهُ نَوَّرَ دَعْوَتِى أَتَلْعَنُ مَنْ هُوَ مِثْلَ بَدْرٍ مُّنَوَّرُ کیا تو میرا انکار کرتا ہے اور خدا نے میری دعوت کو روشن کیا ہے۔ کیا تو ایسے شخص پر لعنت بھیجتا ہے کہ جو چاند کی طرح روشن ہے؟ يُصَدِّقُ أَمْرِي كُلُّ مَنْ كَانَ فِي السَّمَا فَمَا أَنْتَ يَا مِسْكِينُ إِنْ كُنْتَ تَكْفُرُ میری تصدیق تو تمام آسمان والے کرتے ہیں۔ پس اے مسکین ! تو کیا چیز ہے اگر انکار کرے۔ وَ إِنِّي قَتِيلُ الْحِبِّ فَاخْشَوْا قَتِيلَهُ وَلَا تَحْسَبُونِي مِثْلَ نَعْشِ يُنَكَرُ اور میں کشتہ دوست ہوں۔ پس تم کشتۂ دوست سے ڈرو۔ اور مجھے اس جنازہ کی طرح مت سمجھ لو جس کی ہیئت بدل دی گئی اور وہ شناخت نہ کیا جائے ۔ اطُوفُ لِمَرْضَاتِ الْحَبِيبِ كَهَائِمِ وَ اَسْعَى وَإِنَّى مُسْتَهَامٌ وَ مُغْبِرُ میں دوست کی رضا کیلئے ایک سرگشتہ کی طرح گھوم رہا ہوں۔ اور میں دوڑ رہا ہوں اور اس میں سرگردان ہوں اور بہت دوڑنے سے غبار آلودہ ہوں ۔ أَذَابَتْ مَحَبَّتُهُ عِظَامِي جَمِيعَهَا وَهَبَّتْ عَلَى نَفْسِي رِيَاحٌ تُكَسِّرُ اُس کی محبت نے میری ہڈیوں کو گلا دیا۔ اور میرے نفس پر اس کی تیز ہوا چلی جو توڑنے والی تھی۔ ذَرُوا حِرْصَ تَفْتِيُشِي فَإِنِّي مُغَيَّبٌ غُبَارٌ عِظَامِي قَدْ سَفَتُهَا صَرَاصِرُ میری حقیقت شناسی کا خیال چھوڑ دو کہ میں تمہاری نظروں سے غائب ہوں ۔ اور میری ہڈیاں ایک ایسا غبار ہیں کہ جن کو تیز ہوائیں اڑا کر لے گئیں۔ إِذَا مَا انْقَضَى وَقْتِي فَلَا وَقْتَ بَعْدَهُ لَدَيْنَا مَعِينٌ لَّا يُحَاكِيْهِ أَخَرُ جب میرا وقت گزر جائے گا تو بعد اُس کے کوئی وقت نہیں ۔ ہمارے پاس وہ صاف پانی ہے جو اُس کی نظیر نہیں ۔ دُعَائِي حُسَامٌ لا يُؤَخَّرُ وَقُعُهُ وَصَوْلِى عَلَى أَعْدَاءِ رَبِّي مُفَقِّرُ میری دعا ایک تلوار ہے جو کوئی اُس کے وار کو روک نہیں سکتا ۔ اور میر احملہ میرے خدا کے دشمنوں پر ایک سخت تلوار ہے ۔