القصائد الاحمدیہ — Page 300
۳۰۰ وَأَرْضَى اللَّقَامَ إِذْ دَنَا مِنْ اَرْضِهِمْ عَلَى النَّارِ مَشَّاهُمْ وَ قَدْ كَانَ يَبْطَرُ اور لوگوں کو خوش کیا جب ان کی زمین سے نزدیک ہوا۔ ان لوگوں کو آگ پر چلایا اور بہت خوش ہوا۔ تَكَلَّمَ كَالْاخْلَافِ مِنْ غَيْرِ فِطْنَةٍ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ كَانَ يَنْظُرُ اُس نے کمینوں کی طرح بغیر دانائی کے کلام کیا۔ اور دیکھنے والوں سے تو خود سن لے گا۔ وَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ فَسَلُ يَا مُكَذِّبِي دَهَاقِينَ مُدِّ وَالْحَقِيقَةُ أَظْهَرُ اور اگر تجھے شک ہے ۔ تو مد کے زمینداروں سے پوچھ لے۔ فَلَمَّا الْتَقَى الْجَمْعَانِ لِلْبَحْثِ وَالْوَغَا وَنُوْدِيَ بَيْنَ النَّاسِ وَالْخَلْقُ احْضِرُوا پس جب دونوں فریق بحث کیلئے جمع ہو گئے ۔ اور لوگوں میں منادی کرائی گئی اور لوگ حاضر ہو گئے ۔ وَأَوْجَسَ خِيفَةَ شَرِّهِ بَعْضُ رُفَقَتِى لِمَا عَرَفُوا مِنْ خُبُثِ قَوْمٍ تَنَمَّرُوا اور پوشیدہ طور پر میرے بعض رفیقوں کے دلوں میں خوف ہوا۔ کیونکہ قوم کی درندگی انہوں نے معلوم کر لی تھی۔ فَأُنْزِلَ مِنْ رَّبِّ السَّمَاءِ سَكِينَةٌ عَلَى صُحْبَتِي وَاللَّهُ قَدْ كَانَ يَنْصُرُ پس میرے اصحاب پر آسمان سے تسلی نازل کی گئی۔ اور خدا مد د کر رہا تھا۔ وَأَعْطَاهُمُ الرَّحْمَنُ مِنْ قُوَّةِ الْوَغَى وَأَيَّدَهُمْ رُوحٌ أَمِينٌ فَأَبْشَرُوا اور خدا نے ان کو قوت لڑائی کی دے دی۔ اور روح القدس نے ان کو مدد دی۔ پس وہ خوش ہو گئے ۔ وَكَانَ جِدَالٌ يَطْرُدُ الْقَوْمَ بِالضُّحَى إِلَى خِطَّةٍ أَوْمَى إِلَيْهَا الْمَعْشَرُ اور لوگ قریب آٹھ بجے کے بحث دیکھنے لیئے روانہ ہوئے۔ اُس تکیہ کی طرف جس کی طرف گروہ نے اشارہ کیا تھا۔ تَحَرَّوْا لِهَذَا الْبَحْثِ اَرْضًا شَجِيْرَةً إِلَى الْجَانِبِ الْغَرْبِيِّ وَالْجُنُدُ جُمِّرُوا اور بحث کیلئے ایک زمین اختیار کی گئی جس میں کئی ایک درخت تھے۔ اور وہ جگہ گاؤں سے باہر غربی طرف تھی اور ہمارے دوست وہاں ٹھہرائے گئے۔ وَكَانَ ثَنَاءُ اللهِ مَقْبُولُ قَوْمِهِ وَمِنَّا تَصَدَّى لِلتَخَاصُمِ سَرْوَرُ اور ثناء اللہ اس کی قوم کی طرف سے مقبول تھا۔ اور ہماری طرف سے مولوی سید محمد سرور شاہ پیش ہوئے۔ لے ایڈیشن اول میں سہو کتابت سے ایک درخت تھا لکھا گیا ہے۔ (ناشر)