القصائد الاحمدیہ — Page 296
۲۹۶ وَكَمْ مِّنْ عَدُوٌّ بَعْدَ مَا أَكْمَلَ الْأَذَى أَتَانِي فَلَمْ أَصْعَرُ وَمَا كُنتُ أَصْعَرُ اور بہت سے دشمن ہیں جو دکھ کو کمال تک پہنچا دینے کے بعد میرے پاس آئے تو نہ میں نے بے رخی برتی اور نہ ہی کبھی بے رخی میرا شیوہ تھا۔ أَرَى الظُّلْمَ يَبْقَى فِي الْخَرَاطِيمِ وَسُمُهُ وَأَمَّا عَلَامَاتُ الْأَذَى فَتُغَيَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ ظلم کا نشان ناکوں پر باقی رہ جاتا ہے لیکن تکلیف اٹھانے کی علامات، سو وہ تو بدل جایا کرتی ہیں۔ وَ وَاللَّهِ إِنِّي قَدْ تَبِعْتُ مُحَمَّدًا وَفِي كُلِّ أَن مِّنْ سَنَاهُ انَوَّرُ اور خدا کی قسم ! میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ہے اور ہر لحظہ میں انہی کی روشنی سے منور کیا جاتا ہوں ۔ عَجِبْتُ لِأَعْمَى لَا يُدَاوِى عُيُونَهُ وَمِنَّا بِجَوْرِ الْجَهْلِ يَلْوِي وَ يَسْخَرُ مجھے اس اندھے پر تعجب ہے جو اپنی آنکھوں کا علاج نہیں کرتا اور جہالت ۔ کرتا اور جہالت سے پیدا شدہ ظلم کی وجہ سے وہ ہم سے جھگڑتا اور ٹھٹھا کرتا ہے۔ ا تَنْسى نَجَاسَاتٍ رَضِيْتَ بِاَكُلِهَا وَتَهُمِنُ بُهْتَانًا بَرِيًّا وَتَذْكُرُ کیا تو ان نجاستوں کو بھول ر استوں کو بھول رہا ہے جن کے کھانے کو تو پسند کر چکا ہے اور تو ایک بے گناہ شخص پر بہ ص پر بہتان باندھتا ہے اور اس کا ذکر کرتا رہتا ہے۔ إِذَا قَلَّ عِلْمُ الْمَرْءِ قَلَّ اتِّقَاءُهُ فَيَسْعَى إِلَى طُرُقِ الشَّقَا وَ يُزَوِّرُ جب انسان کا علم کم ہو جاتا ہے تو اس کا تقوی بھی کم ہو جاتا ہے۔ سو وہ بدبختی کے راستوں پر دوڑتا اور فریب سے کام لیتا ہے۔ وَمَا أَنَا مِمَّنْ يَمْنَعُ السَّيْفُ قَصْدَهُ فَكَيْفَ يُخَوِّفُنِي بِشَمٍ مُّكَفِّرُ اور میں ان لوگوں سے نہیں ہوں کہ تلوار ان کے ارادے کو روک سکے۔ سو ایک مکفر مجھے گالیوں سے کیسے ڈرا سکتا ہے۔ لَنَا كُلَّ يَوْمٍ نُّصْرَةٌ بَعْدَ نُصْرَةٍ فَمُتْ أَيُّهَا النَّارِي بِنَارٍ تُسَجِّرُ لگ ہمیں ہر روز نصرت پر نصرت مل رہی ہے۔ سواے حسد کی آگ میں جلنے والے! اس آگ کے ذریعہ ہلاک ہو جا جسے تو خود ہی بھڑکا رہا ہے۔ وُعِدْنَا مِنَ الرَّحْمَنِ عِرًّا وَ سُوْدَدًا فَقُمْ وَامْحُ هَذَا النَّقْشَ إِنْ كُنْتَ تَقْدِرُ ہمیں خدائے رحمان کی طرف سے عزت اور سرداری کا وعدہ دیا گیا ہے۔ سواٹھ اگر تو قدرت رکھتا ہے تو اس نقش کو مٹا دے۔ أَلَا إِنَّمَا الْأَيَّامُ رَجَعَتْ إِلَى الْهُدى هَنِياً لَّكُمُ بَعْنِي فَبَثُوا وَابْشِرُوا سن لو ! زمانہ ہدایت کی طرف لوٹ پڑا ہے۔ تمہارے لئے میری بعثت مبارک ہو۔ پس خوش ہو جاؤ اور خوشی مناؤ۔