القصائد الاحمدیہ — Page 275
۲۷۵ وَتَنْحِتُ بُهْتَانًا عَلَى كَفَاسِقٍ وَتُعْزِى إِلَى نَفْسِي جَرَائِمَ مُوْبِقِ اور میرے پر تو ایک ، فاسق کی طرح بہتان باندھ رہا ہے اور لیکھر ام کے ہلاک کر نیوالے کا جرم میری طرف منسوب کرتا ہے۔ ا تَرْمِي بَرِيئًا يَا خَبِيْتُ بِذَنْبِهِ اَلَا تَتَّقِي الدَّيَّانَ يَاأَيُّهَا الشَّقِى کیا تو اے خبیث قتل کر نیوالے کا گناہ مجھ پر لگاتا ہے۔اے شقی کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا۔ فَطَوْرًا تُشِيرُ إِلَيَّ خُبْثًا وَتَارَةً تُشِيرُ إِلى حِزْبِى بِكِذُبٍ تَخْلُقِ پس کبھی تو میری طرف اشارہ کرتا ہے اور کبھی میری جماعت کی طرف اس جھوٹ سے جو بنا رہا ہے۔ وَوَاللَّهِ إِنَّ جَمَاعَتِي فِي جُمُوعِكُمْ كَشَجَرَةِ عِذْقِ عِنْدَ نَبْتِ السَّنَعْبَقِ اور بخدا میری جماعت تمہاری جماعتوں میں کھجور کے درخت کی طرح ہے جو ایک خراب بوٹی کے پاس ہو جس کا نام سنعبق ہے وَمَثَلُ الَّذِي يَتَبَعُنِي بَعْدَ سِلْمِهِ كَمِثْلِ ذَرَى سِر مُرَبَّي بِاوْدَقِ اور جو اسلام کے بعد میرا تابعدار ہو اسکی یہ مثال ہے جیسے کہ وادی کی زمین عمدہ کی چوٹی جس پر کالا بادل برس گیا ہے۔ فَلَمَّا عَرَاهُ الْمَحْلُ رُبِّيَ ثَانِيَا فَصَارَ كَمُولَي الْأَسِرَّةِ مُوَرِقِ پس جب خشک سال اسپر طاری ہوا تو پھر اسپر پانی برسا پس وہ اس عمدہ زمین کی طرح ہوگئی جس پر دوبارہ بارش ہوتی ہے اور اپنی سبز پتی باہر لے آتی ہے أَتُنكِرُ آيَ اللهِ خُبْتًا وَشِقُوةً وَأَيَةَ مَيْتٍ بِالدَّمِ الْمُتَدَقِّقِ کیا تو خدا کے نشانوں کا انکار کرتا ہے اور اس مردہ کے نشان کو جس کے ساتھ خون ٹپکتا ہے۔ أَذَلَّتْ لِي الْأَعْنَاقُ مِنْ غَيْرِ أَيَةٍ اَجَاءَ تُنِيَ العُلَمَاءُ مِنْ غَيْرِ مُقْلِقِ کیا نشان کے بغیر ہی گردنیں میری طرف جھک گئیں ۔ کیا علماء بغیر کسی محرک اور بے آرام کر نیوالے کے یونہی آگئے۔ إِلَى اللهِ نَشْكُو مِنْ ظُنُونِ مُكَذِّبٍ وَإِنَّ الْمُكَذِّبَ سَوْفَ يُخْزِى وَيُسْحَقِ ہم خدا کی طرف مکذبوں کی بدگمانیوں سے شکایت لیجاتے ہیں اور مکذب رسوا کیا جائے گا اور پیا جائے گا۔ اَ تُنْكِرُ آيَةَ خَالِقِ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ أَأَنْتَ تُحَارِبُ قَدْرَهُ أَيُّهَا الشَّقِى کیا تو خدا کے نشانوں سے انکار کرے گا۔ کیا تو اے شقی ! اس کی تقدیر سے جنگ کرے گا۔