القصائد الاحمدیہ — Page 263
۲۶۳ وَكُلٌّ آرَاءُ وُا مِنْ اَسَارِيرِ وَجْهِهِ سُرُورًا وَ ذَوْقًا مَا يُنَافِي التَّاقِ اور ہر ایک نے اپنے چہرہ کے نقشوں سے وہ سرور ظاہر کیا جو تنگ دلی کے منافی تھا۔ وَمَنْ سَمِعَ قَوْلًا غَيْرَ مَا قَرَءَ فَاشْتَكَى كَمَا تَشْتَكِي إِبِلُ عَقِيبَ التَّبَرُّقِ اور جس نے میرے قول کے سوا کوئی اور قول سنا۔ پس اس نے گلہ کیا جیسا کہ اونٹ بروق کی بوٹی کھا کر زحمت کی شکایت کرتا ہے۔ وَكَانُوا كَمَمْحُو بِعَالَمِ سَكَتَةٍ فَيَا عَجَبًا مِنْ مَّيْلِهِمْ كَالتَّعَشُقِ اور وہ لوگ عالم سکتہ میں محو کی طرح تھے پس کیا عجیب انکی میں تھی جو عشق کے مانند ساتھ تھی ۔ وَكَمْ حِكَم كَانَتْ بِلَقِ كَلَامِنَا وَكَمْ دُرَرٍ كَانَتْ تَلُوْحُ وَتَبْرُقِ اور بہت سی حکمتیں ہمارے کلام میں تھیں اور بہت سے موتی ستارہ کی طرح چمک رہے تھے۔ جَرَائِدُ أَقْوَامٍ تَصَدَّتْ لِذِكْرِهَا لِمَا رَغِبُوا فِي وَصْفِ قَوْلِي كَمِنْشَقِي قوموں کے اخباروں نے اس کا ذکر کیا ہے کیونکہ انہوں نے بات کے چنے والوں کی طرح میرے قول کی طرف رغبت کی ہے۔ تَرَى زُمَرَ الْأَدَبَاءِ فِي أَخْبَارِهِمْ اَشَاعُوا كَلَامِي لِلْانَاسِ كَمُشْفِقِ تو انکودیکھتا ہے کہ انہوں نے اپنے اخباروں میں میرے کلام کو لوگوں میں مشفق کی طرح شائع کیا۔ وَكَانَتْ مَضَامِينِي كَغِيدٍ بِلُطْفِهَا فَأَصْبَتْ بِحُسْنٍ ثُمَّ لَحْنٍ كَيَلْمُقِ اور میرے مضامین نازک اندام عورتوں کی طرح تھے پس حسن کیسا تھ پھر اس آواز کیساتھ جو بطور قبا کے تھی دل اسکی طرف جھک گئے ۔ وَلَمَّا رَاهَا أَهْلُ رَأْي تَمَايَلَتْ عَلَيْهِ عُيُونُ قُلُوبِهِمْ بِالتَّوَمُّقِ اور جب اس مضمون کو اہل الرائے لوگوں نے دیکھا تو انکے دلوں کی آنکھیں دوستی کی ساتھ اس طرف جھک گئیں ۔ وَمَرَّ عَلَى الْأَعْدَاءِ بَعْضُ رَشَاشِهَا فَنَفْيَانُهَا قَدْ غَسَلَ أَوْسَانَ خُنُبُقِ اور بعض رشحات اُس کے دشمنوں پر گرے پس اسکے اڑنے والے قطروں نے متکبر بخیل کے میلوں کو دھو دیا۔ إِلَى هَذِهِ الأَيَّامِ لَمْ يُنْسَ ذِكْرُهَا وَكُلُّ لَطِيفٍ لَا مَحَالَةَ يُرْمَقِ ان دنوں تک ان کا ذکر فراموش نہیں ہوا اور ہر ایک لطیف ناچار ہمیشہ دیکھا جاتا ہے اور نظریں اسکی طرف لگی رہتی ہیں۔