القصائد الاحمدیہ — Page 245
۲۴۵ ویداد عَادَيْتُهُمُ لِلَّهِ حِينَ تَلَاعَبُوا بِالدِّينِ صَوَّالِينَ مِنْ غُلَوَاءِ میں خدا کی خاطر ان کا دشمن ہوا جب وہ دین سے کھیلنے لگے ۔ جب کہ وہ حد سے بڑھتے ہوئے حملہ کرنے لگے۔ ربِّيتُ مِنْ دَرِّ النَّبِيِّ وَعَيْنِهِ أُعْطِيتُ نُورًا مِّنْ سِرَاجٍ حِرَاءِ میں بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے دودھ اور آپ کے چشمے سے پلا ہوں اور غار حرا کے آفتاب سے مجھے نور عطا کیا گیا ہے۔ الشَّمْسُ أُمِّ وَالْهِلَالُ سَلِيلُهَا يَنمُ وَيَنْشَأُ مِنْ ضِيَاءِ ذُكَاءِ سورج ماں ہے اور ہلال اس کا فرزند جو سورج کی روشنی سے نشو و نما پاتا ہے۔ إِنِّي طَلَعْتُ كَمِثْلِ بَدْرٍ فَانْظُرُوا لَا خَيْرَ فِي مَنْ كَانَ كَالْكَهُمَاءِ بے شک میں بدر کی طرح طلوع ہوا۔ سو تم دیکھو۔ اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو کمزور نظر والی عورت کی طرح ہو۔ يَارَبِّ أَيِّدْنَا بِفَضْلِكَ وَانْتَقِمُ مِمَّنْ يَدُعُ الْحَقَّ كَالْغُثَاءِ اے میرے رب ! ہماری تائید کر اپنے فضل سے اور انتقام لے اس شخص سے جو حق کو خس و خاشاک کی طرح دھتکارتا ہے۔ يَارَبِّ قَوْمِي غَلَّسُوا بِجَهَالَةٍ فَارْحَمُ وَأَنْزِلُهُمْ بِدَارِ ضِيَاءِ اے میرے رب ! میری قوم جہالت سے اندھیرے میں چلی گئی ہے سو تو رحم کر اور انہیں روشنی کے گھر میں اتار۔ يَالَائِمِ إِنَّ الْعَوَاقِبَ لِلتَّقَى فَارْبَا مَالَ الْأَمْرِ كَالْعُقَلَاءِ اے مجھے ملامت کرنے والے ! انجام متقیوں کے حق میں ہوا کرتا ہے پس تو دانشمندوں کی طرح مال کار کے بارہ میں غور و فکر کر۔ اللَّهُ أَيَّدَنِي وَصَافَى رَحْمَةً وَأَمَدَنِي بِالنِّعَمِ وَالَّا لَاءِ اللہ نے میری تائید کی ہے اور اپنی رحمت سے دوست بنایا ہے اور مجھے قسم قسم کی نعمتوں سے مدد دی ہے۔ فَخَرَجْتُ مِنْ وَهُدِ الضَّلَالَةِ وَالشَّقَا وَدَخَلْتُ دَارَ الرُّشْدِ وَالْإِدْرَاءِ پس میں بدبختی اور گمراہی کے گڑھے سے نکل گیا ہوں اور میں ہدایت اور تعلیم دینے کے گھر میں داخل ہو گیا ہوں ۔ وَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ سَقَطٌ كُلُّهُمْ إِلا الَّذِي أَعْطَاهُ نِعْمَ لِقَاءِ اور اللہ کی قسم ! سب کے سب لوگ بریکا رکھے ہیں سوائے اس شخص کے جسے خدا نے اپنے دیدار کی نعمت دی ہو۔