القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 241

الدا لک مَا بَقِيَ فِيهِمْ عِفَّةٌ وَ زَهَادَةٌ لَا ذَرَّةٌ مِّنْ عِيْشَةٍ خَشْنَاءِ ان میں کوئی عفت اور پر ہیز گاری باقی نہیں رہی اور نہ ہی مجاہدانہ زندگی کا کوئی ذرہ باقی ہے۔ قَعَدُوا عَلَى رَأْسِ الْمَوَائِدِ مِنْ هَوى فَرُّوا مِنَ الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وہ حرص و ہوا کی وجہ سے دستر خوانوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور تکا ہیں اور تکلیفوں اور سختیوں سے بھاگ نکلے ہیں۔ جَمَعُوا مِنَ الْأَوْبَاشِ حِزْبَ اَرَاذِلٍ فَكَأَنَّهُمْ كَالْخَشْي لِلاحْمَاءِ انہوں نے اوباش لوگوں میں سے کمینوں کا ایک گروہ جمع کر لیا گویا کہ اوپلوں کی طرح ہیں جو حرارت حاصل کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ لَمَّا كَتَبْتُ الْكُتُبَ عِنْدَ غُلُوِّهِمْ بِلَاغَةِ وَ عَذُوبَةٍ وَصَفَاءِ اور جب میں نے ان کے غلو کے وقت کتابیں لکھیں جو بلاغت، شیرینی اور وضاحت سے پر تھیں ۔ قَالُوا قَرَأْنَا لَيْسَ قَوْلًا جَيِّدًا اَوْ قَوْلُ عَارِبَةٍ مِنَ الْأَدَبَاءِ انہوں نے کہا ہم نے پڑھ لی ہیں ( یہ ) کوئی عمدہ بات نہیں ہیں۔ یہ ادیبوں میں سے کسی ماہر عرب کا قول ہے۔ عَرَبِّ أَقَامَ بِبَيْتِهِ مُتَسَتِّرًا اَمْلَى الْكِتَابَ بِبُكْرَةٍ وَمَسَاءِ کوئی فصیح (ادیب) ہے جو اس گھر میں پوشیدہ طور پر ٹھہرا ہوا ہے اور وہی صبح و شام کتاب لکھواتا ہے۔ انْظُرُ إِلَى أَقْوَالِهِمْ وَتَنَاقُضِ سَلَبَ الْعِنَادُ اصَابَةَ الْأَرَاءِ تو ان کی باتوں اور ( ان کے ) تضاد کو دیکھ ۔ دشمنی نے ان سے صحیح رائے سلب کر لی ہے۔ طَوْرًا إِلَى عَرَبِ عَزَوْهُ وَتَارَةً قَالُوا كَلَامٌ فَاسِدُ الْإِمْلَاءِ کبھی تو نے میرے کلام کو کسی عرب کی طرف منسوب کیا اور کبھی یہ کہا کہ اس کلام کی املاء خراب ہے۔ هَذَا مِنَ الرَّحْمَنِ يَا حِزْبَ الْعِدَا لَا فِعْلُ شَامِيٌّ وَلَا رُفَقَائِي اے دشمنوں کے گروہ! یہ تو خدائے رحمان کی طرف سے ہے نہ یہ کسی شامی کا فعل ہے نہ میرے رفیقوں کا۔ أَعْلَى الْمُهَيْمِنُ شَأْنَنَا وَعُلُوْمَنَا نَبْنِي مَنَازِلَنَا عَلَى الْجَوَازَاءِ خدائے نگہبان نے ہماری شان اور علوم کو بلند کر دیا ہے اس لئے ہم اپنی منزلیں بُرج جوزا پر بنا رہے ہیں ۔