القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 238

۲۳۸ أَوْ مِنْ رِجَالِ اللَّهِ أُخْفِيَ سِرُّهُمْ يَأْتُونَنِي مِنْ بَعْدُ كَالشُّهَدَاءِ یا وہ مردانِ خدا باقی رہ گئے ہیں جن کے حالات پوشیدہ ہیں اور وہ ان کے بعد میرے پاس گواہوں کی طرح آئیں گے۔ ظَهَرَتْ مِنَ الرَّحْمَنِ ايَاتُ الْهُدَى سَجَدَتْ لَهَا أُمَمٌ مِّنَ الْعُرَفَاءِ خدائے رحمان کی طرف سے ہدایت کے نشان ظاہر ہو گئے اور ان نشانوں کی وجہ سے عارفوں کے گروہ (خدا کے حضور ) سجدہ ریز ہو گئے۔ أَمَّا اللَّامُ فَيُنْكِرُونَ شَقَاوَةً لَا يَهْتَدُونَ بِهَذِهِ الْأَضْوَاءِ مگر بد بخت لوگ اپنی بدبختی کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں وہ ان روشنیوں سے ہدایت نہیں پار ہے۔ هُمْ يَأْكُلُونَ الْجِيْفَ مِثْلَ كِلَابِنَا هُمْ يَشْرَهُونَ كَأَنْسُرِ الصَّحْرَاءِ ہمارے کتوں کی طرح مردار کھا رہے ہیں وہ صحراء کے گدھوں کی طرح (مرادار کے ) حریص ہیں۔ خَشَّوُا وَ لَا تَخْشَى الرِّجَالُ شَجَاعَةً فِي نَائِبَاتِ الدَّهْرِ وَالْهَيْجَاءِ انہوں نے ( مجھے ) ڈرایا حالانکہ بہادر مرد شجاعت کی وجہ سے زمانے کے حوادث اور لڑائی میں ڈرا نہیں کرتے ۔ لَمَّا رَأَيْتُ كَمَالَ لُطْفِ مُهَيْمِنِى ذَهَبَ الْبَلَاءُ فَمَا أُحِسُّ بَلَائِي جب میں نے اپنے نگہبان خدا کی کمال مہربانی کو دیکھا تو مصیبت جاتی رہی سو میں اپنی کوئی مصیبت محسوس نہیں کرتا۔ مَا خَابَ مِثْلِى مُؤْمِنٌ بَلْ خَصْمُنَا قَدْ خَابَ بِالتَّكْفِيرِ وَالْإِفْتَاءِ میرے جیسا مومن نامراد نہیں رہا بلکہ ہمارا دشمن تکفیر اور فتوئی بازی میں نامراد ہو گیا۔ الْغُمُرُ يُبْدِى نَاجِذَيْهِ تَغَيُّظًا اُنْظُرُ إِلى ذُو لَوْثَةٍ عَجْمَاءِ جاہل آدمی غصے سے اپنے دانت دکھاتا ہے (تو) اس احمق چوپائے کی طرف نگاہ کر ۔ قَدْ اسْخَطَ الْمَوْلَى لِيُرْضِيَ غَيْرَهُ وَاللَّهُ كَانَ أَحَقَّ لِلارْضَاءِ اس نے اپنے مولیٰ کو ناراض کر دیا تا کہ اس کے غیر کو خوش کرے اور خدا کا راضی کیا جا نا زیادہ سزاوار اور مناسب ہے۔ كَسَّرُتُ ظَرُفَ عُلُومِهِمْ كَزُجَاجَةٍ فَتَطَايَرُوا كَتَطَائِرِ الْوَقْعَاءِ میں نے ان کے علوم کے برتن کو شیشے کی طرح توڑ دیا پس وہ غبار کے اڑنے کی طرح اڑ گئے ۔