القصائد الاحمدیہ — Page 235
۲۳۵ فَكَرْ أَمَا هَذَا التَّخَوُّفُ آيَةً رُعْبًا مِّنَ الرَّحْمَنِ لِلْإِدْرَاءِ سوچ کہ کیا تیرا یہ مرعوب ہو کر ڈرنا تجھے سمجھانے کے لئے خدائے رحمان کی طرف سے نشان نہیں ہے۔ كَيْفَ النِّضَالُ وَأَنْتَ تَهْرُبُ خَشْيَةً اُنْظُرُ إِلَى ذُلِّ مِنِ اسْتِعْلَاءِ تو مجھ سے کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے حالانکہ تو مجھ سے ڈر کر بھاگ رہا ہے۔ دیکھ اس ذلت کی طرف جو تکبر کرنے کی وجہ سے تجھے پہنچی ہے۔ إِنَّ الْمُهَيْمِنَ لا يُحِبُّ تَكَبُّرًا مِنْ خَلْقِهِ الضُّعَفَاءِ دُودِ فَنَاءِ بے شک خدائے مھیمن تکبر کو پسند نہیں کرتا اپنی کمز ور مخلوق کی طرف سے جو فنا کا کیڑا ہے۔ عُفَرْتَ مِنْ سَهْمٍ اَصَابَكَ فَاجِئًا اَصْبَحْتَ كَالْامُوَاتِ فِي الْجَهْرَاءِ تو خاک آلود کر دیا گیا ہے اس تیر سے جو اچانک تجھے آلگا ہے تو بیابان میں مردوں کی طرح ہو گیا ہے۔ أَلا نَ اَيْنَ فَرَرْتَ يَا ابْنَ تَصَلُّفٍ قَدْ كُنْتَ تَحْسَبُنَا مِنَ الْجُهَلَاءِ اے لاف زن ! اب تو کہاں بھاگ گیا ہے؟ تو تو ہمیں جاہلوں میں سے خیال کیا کرتا تھا۔ يَامَنْ أَهَاجَ الْفِتَنَ قُمْ لِنِضَالِنَا كُنَّا نَعُدُّكَ نَوْجَةَ الْحَوَاءِ اے وہ شخص جس نے فتنے بر پاکئے؟ ہمارے مقابلے کے لئے اٹھ ۔ ہم تو تجھے غبار والی زمین کا طوفان سمجھتے ہیں۔ نُطْقِي كَمَوْلِي الْاسِرَّةِ جَنَّةً قَوْلِى كَقِنُرِ النَّخْلِ فِي الْخَلْقَاءِ میرا نطق اس باغ کی طرح ہے جس کی وادیوں میں دوسری بار بارش ہوئی ہو۔ اور میرا قول کھجور کے خوشے کی طرح ہے جوز رخیز زمین میں ہو۔ مُزّقت لكنُ لا بِضَرْبِ هَرَاوَةٍ بَلُ بِالسُّيُوفِ الْجَارِيَاتِ كَمَاءِ تو پارہ پارہ کر دیا گیا ہے لیکن ڈنڈے کی ضرب سے نہیں بلکہ تلواروں سے جو آب رواں کی طرح ( تیز تھیں ۔ إِنْ كُنْتَ تَحْسُدُنِي فَإِنِّي بَاسِلٌ أُصْلِى فُؤَادَ الْحَاسِدِ الْخَطَّاءِ اگر تو مجھ سے حسد کرتا ہے تو میں ایک دلاور آدمی ہوں حاسد خطا کار کے دل کو جلاتا ہوں ۔ كَذَّبْتَنِي كَفَّرُتَنِي حَقَّرْتَنِي وَاَرَدْتَ اَنْ تَطَأَنَّنِي كَعَفَاءِ تو نے میری تکذیب کی مجھے کافر کہا اور مجھے حقیر سمجھا اور تو نے ارادہ کیا ہے کہ مجھے مٹی کی طرح ضرور پامال کر دے۔