القصائد الاحمدیہ — Page 231
۲۳۱ اللهُ مَقْصِدُ مُهْجَتِي وَأُرِيدُهُ فِي كُلِّ رَشْحِ الْقَلَمِ وَالْإِمْلَاءِ اللہ میری جان کا مقصود ہے اور میں اسی کو چاہتا ہوں قلم کے ہر قطرہ ( روشنائی ) اور ہر املاء میں ۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اشْرَبُوا مِنْ قِرْبَتِي قَدْ مُلِيَّ مِنْ نُّورِ الْمُفِيضِ سِقَائِي اے لوگو! میری مشک سے پیو کیونکہ فیاض حقیقی کے نور سے میری مشک پر کی گئی ہے۔ قَوْمٌ أَطَاعُونِي بِصِدْقِ طَوِيَّةٍ وَالْآخَرُونَ تَكَبَّرُوا لِغِطَاءِ ایک قوم نے میری صدق نیت سے اطاعت کی ہے اور دوسروں نے نفس کے پردے کی وجہ سے تکبر کیا ہے۔ حَسَدُوا فَسَبُّوا حَاسِدِينَ وَلَمْ يَزَلُ حَسَدَتْ لِنَامٌ كُلَّ ذِي نُعْمَاءِ انہوں نے حسد کیا سو حسد کرتے ہوئے گالیاں دیں اور ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ کمینوں نے ہر صاحب نعمت کا حسد کیا ہے۔ مَنْ أَنْكَرَ الْحَقَّ الْمُبِينَ فَإِنَّهُ كَلْبٌ وَعَقْبَ الْكَلْبِ سِرُبُ ضِرَاءِ جس نے کھلے کھلے حق کا انکار کیا تو وہ کتا ہے اس حالت میں کہ اس کتے کے پیچھے شکاری کتوں کا ایک گروہ چلا آ رہا ہے۔ اذَوْا وَ سَبُّوْنِي وَقَالُوا كَافِرٌ فَالْيَوْمَ نَقْضِي دَيْنَهُمْ بِرِبَاءِ انہوں نے مجھے ایذا دی اور گالیاں دیں اور کہا کہ یہ کافر ہے۔ آج ہم ان کا قرضہ مع سود ادا کر رہے ہیں۔ وَاللَّهِ نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ بِفَضْلِهِ لكِنُ نَرَى جَهْلٌ عَلَى الْعُلَمَاءِ خدا کی قسم ! ہم اس کے فضل سے مسلمان ہیں لیکن جہالت علماء کے سر پر سوار ہوگئی ہے۔ نَخْتَارُ أَثَارَ النَّبِيِّ وَأَمْرَهُ نَقْفُوْ كِتَابَ اللهِ لَا الْأَرَاءِ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار اور آپ کے حکم کو اختیار کر رہے ہیں۔ ہم کتاب اللہ کی پیروی کرتے ہیں نہ کہ دوسری آراء کی ۔ إِنَّا بُرَاء فِي مَنَاهِجِ دِينِهِ مِنْ كُلِّ زِندِيقٍ عَدُةٍ دَهَاءِ ہم اس کے دین کی راہوں میں ہر زندیق اور عقل کے دشمن سے بیزار ہیں۔ إِنَّا نُطِيعُ مُحَمَّدًا خَيْرَ الْوَرَى نُورَ الْمُهَيْمِنِ دَافِعَ الظَّلَمَاءِ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ؟ کی پیروی کرتے ہیں جو مخلوق میں سب سے بہتر ہیں، خدائے ھیمن کا نور ہیں اور ظلمتوں کو دور کرنے والے ہیں۔