القصائد الاحمدیہ — Page 209
۲۰۹ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَلِّلِ شَانًا يَفُوقَ شُيُونَ وَجُهِ ذُكَاءِ میں تیرے دمکتے ہوئے چہرے میں ایسی شان دیکھتا ہوں جو آفتاب کے چہرے کی شانوں سے بڑھ کر ہے۔ مَا جِئْتَنَا فِي غَيْرِ وَقْتِ ضَرُورَةٍ قَدْ جِئْتَ مِثْلَ الْمُزْنِ فِي الرَّمْضَاءِ تو ہمارے پاس بے وقت اور بے ضرورت نہیں آیا تو ایسے آیا ہے جیسے شدید گرما میں بارش آجائے۔ إِنَّى رَأَيْتُ الْوَجْهَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ وَجْهٌ كَبَدْرِ اللَّيْلَةِ الْبَلْمَاءِ میں نے وہ چہرہ دیکھا ہے جو محمد کا چہرہ ہے۔ ایسا چہرہ جیسا چودھویں رات کا چاند ہو۔ شَمْسُ الْهُدَى طَلَعَتْ لَنَامِنُ مَكَّةَ عَيْنُ النَّدَانَبَعَتْ لَنَا بِحِرَاءِ ہدایت کا آفتاب ہمارے لئے مکہ سے طلوع ہوا۔ بخششوں کا چشمہ ہمارے لئے حراء سے پھوٹ پڑا۔ ضَاهَتُ أَيَاةُ الشَّمْسِ بَعْضَ ضِيَائِهِ فَإِذَا رَأَيْتُ فَهَاجَ مِنْهُ بُكَائِي سورج کی شعاعیں اسکی ضیاء کے ایک حصہ سے مشابہ ہیں جب میں نے ( اس سورج کو دیکھا تو اس سے میرے رونے میں ہیجان پیدا ہو گیا۔ أَعْلَى الْمُهَيْمِنُ هِمَمَنَا فِي دِينِهِ نَبْنِي مَنَازِلَنَا عَلَى الْجَوْزَاءِ خدائے میمن نے اپنے دین کے بارہ میں ہماری ہمتوں کو بلند کیا (چنانچہ ) ہم اپنی منزلیں ستارہ جوزاء پر بنا رہے ہیں۔ نَسْعَى كَفِتيَانٍ بِدِيْنِ مُحَمَّدٍ لَسْنَا كَرَجُلٍ فَاقِدِ الْأَعْضَاءِ ہم محمد کے دین کے لئے نوجوانوں کی طرح سعی و کوشش کرتے ہیں۔ ہم اس آدمی کی طرح نہیں جس کے اعضاء ہی مفقود ہو گئے ہوں۔ نِلْنَاثُرَيَّاءَ السَّمَاءِ وَسَمُكَهُ لِنَرُدَّ إِيمَانًا إِلَى الصَّيْدَاءِ ہم آسمان کے ثریا اور اس کی بلندیوں تک پہنچ گئے تا کہ ہم ایمان کو زمین پر واپس لے آئیں۔ إِنَّا جُعِلْنَا كَالسُّيُوفِ فَنَدْمَعُ رَأْسَ اللَّامِ وَ هَامَةَ الْأَعْدَاءِ ہمیں تلواروں کی طرح بنایا گیا ہے سو ہم کمینوں کے سر اور دشمنوں کی کھوپڑیاں توڑ ڈالتے ہیں۔ وَاهَا لا صُحَابِ النَّبِيِّ وَجُنْدِهِ حَفَدُوا إِلَيْهِ بِشِدَّةٍ وَرَخَاءِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور لشکروں پر آفرین ہو جو دکھ میں بھی اور سکھ میں بھی آپکی خدمت میں حاضر رہتے ہیں۔