القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 181

۱۸۱ وَأَيُّ ثُبُوتِ نَسَبٍ عِنْدَ قَوْمٍ سِوَى الدَّعُوَى كَأَوْهَامِ الْمَنَامِ اور کس قوم کے پاس اپنے نسب کا ثبوت ہے۔ بجز دعوی کے جو خواب کے وہموں کی طرح ہے۔ فَتُوبُوا وَاتَّقُوا رَبَّا قَدِيرًا مَلِيْكَ الْخَلْقِ وَالرُّسُلِ الْعِظَامِ پس تو بہ کرو اور اُس رب قادر سے ڈرو۔ جو خلقت اور (عظیم ) رسولوں کا بادشاہ ہے۔ وَمَنْ رَام فَأَيْنَ يَفِرُّ مِنَّا وَإِنَّا النَّازِلُونَ بِأَرْضِ رَامِي اور جو شخص ہم سے تیراندازی کرے ہم سے کہاں بھاگے گا۔ کیونکہ ہم تیر چلانے والوں کی زمین پر اتریں گے۔ وَرَدْنَا الْمَاءَ صَفُوًا غَيْرَ كَدْرٍ وَيَشْرَبُ غَيْرُنَا وَشُلَ الْآجَامِ ہم پانی میں وارد ہو گئے جو مصفا اور غیر مکر رہے۔ اور ہمارے مخالف تھوڑ اسا جنگلوں کا پانی پی رہے ہیں۔ أَتَانِي الصَّالِحُونِ فَبَايَعُونِي وَخَافُوا رَبَّهُمُ يَوْمَ الْقِيَامِ نیک لوگ میرے پاس آئے اور اُنہوں نے بیعت کی۔ اور خدا تعالیٰ سے اور جزا سزا کے دن سے ڈرے۔ وَأَمَّا الطَّالِحُونَ فَاَ كُفَرُونِي وَلَعَنُونِي وَمَا فَهِمُوا كَلَامِي جو تباہ کار تھے سو انہوں نے مجھے کا فرٹھہرایا۔ اور میرے پر لعنتیں کیں اور میرے کلام کو نہ سمجھا۔ وَافْتَوْا بِالْهَوَى مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ وَقَالُوا كَافِرٌ لِلْكُفْرِ كَامِي اور بغیر بصیرت علم کے اور ہوا و ہوس کے (ساتھ ) فتویٰ لکھا۔ اور کہا کہ کافر ہے اور کفر کے لئے گواہی کو چھپانے والا ۔ وَصَالُوا كَالْافَاعِى أَوْ ذِيَابٍ وَإِنَّ اللَّهَ لِلصَّدِّيقِ حَامِي اور سانپوں کی طرح انہوں نے حملہ کیا یا بھیڑیوں کی طرح ۔ اور راستباز کے لئے خدا تعالیٰ حمایت کرنے والا ہے۔ لَقَدْ كَذَبُوا وَخَلاقِي يَرَاهُمْ وَلِلشَّيْطَانِ صَارُوا كَالْغُلَامِ اُنہوں نے جھوٹ بولا اور میرا خدا اُن کو دیکھ رہا ہے۔ اور شیطان کے لئے غلام کی طرح ہو گئے ۔ فَلَا وَاللَّهِ لَسْتُ كَكَافِرِينَــا فَدَتْ نَفْسِي نَبِيًّا ذَا الْمَقَامِ پس یہ بات نہیں اور بخدا میں کا فرنہیں۔ میری جان اُس نبی پر قربان ہے جو صاحب مقام محمود ہے۔