القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 165

۱۶۵ يَامُكُفِرِى أَهْلَ السَّعَادَةِ وَالْهُدَى الْيَوْمَ أُنْزِلْتُمْ بِدَارِ هَوَانِ اے وے لوگو جو اہل سعادت کو کا فرٹھہراتے ہو آج تم ذلت کے گھر میں اتارے گئے۔ تُوبُوا مِنَ الْهَفَوَاتِ يُغْفَرُ ذَنْبُكُمْ وَاللَّهُ بَر وَاسِعُ الغُفْرَانِ اپنی لغزشوں سے تو بہ کرو تا تمہارے گناہ بخشے جاویں اور خدا تعالیٰ نکو کار وسیع المغفرت ہے ۔ قَدْ جَاءَ مَهْدِيكُمْ وَظَهَرَتْ آيَةٌ فَاسْعَوْا بِصِدْقِ الْقَلْبِ يَا فُتِيانِي تمہارا مہدی آ گیا اور نشان ظاہر ہو گیا سواے میرے جوانو ! دلی صدق سے کوشش کرو۔ عِنْدِي شَهَادَاتٌ فَهَلُ مِنْ مُّؤْمِنٍ نُورٌ يَّرَى الدَّانِي فَهَلْ مِنْ دَانِي میرے پاس گواہیاں ہیں پس کوئی ایمان لانے والا ہے ؟ ایک نور ہے جو نزدیک آنے والا اس کو دیکھتا ہے، پس کیا کوئی نزدیک آنے والا ہے؟ ظَهَرَتْ شَهَادَاتٌ فَبَعْدَ ظُهُورِهَا مَاعُذْرُكُمْ فِي حَضْرَةِ السُّلْطَانِ گواہیاں ظاہر ہو گئیں سوان کے ظہور کے بعد اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیا عذر کرو گے۔ هذَا أَوَانُ النَّصْرِ مِنْ رَّبِّ السَّمَا ذِي مُصْمِيَاتٍ مُوبِقِ الْفَتَانِ یہ رب السماء کی طرف سے مدد کا وقت ہے جس کے تیر خطا نہیں کرتے اور فتنہ انگیز کو ہلاک کرتا ہے۔ نَزَلَتْ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ لِنَصْرِنَا رُعِبَ الْعِدَا مِنْ عَسْكَرِ رُّوحَانِي ہماری مدد کے لئے آسمان سے فرشتے اتر آئے۔ لشکر روحانی سے دشمن ڈر گئے ۔ دَخَلَتْ بُرُوقُ الدِّيْنِ فِي أَرْضِ الْعِدَى وَبَدَا الْهُدَى كَالدُّرَرِ فِي اللَّمُعَانِ دین کی روشنی دشمنوں کی زمین میں داخل ہو گئی اور ہدایت چمکنے والے موتیوں کی طرح ظاہر ہوگئی۔ اَفَتَرْقُبُونَ كَظَالِمَيْنَ جَهَالَةً رَجُلًا حَرِيصَ السَّفْكِ وَالْإِثْخَانِ کیا تم ظالموں کی طرح محض اپنی جہالت سے ایسے آدمی کی انتظار کرتے ہو جو خونریزی کا حریص اور بہت خونریز ہو۔ لَسْتُمْ بِأَهْلِ لِلْمَعَارِفِ وَالْهُدَى فَتَلَا عَبُوا بِالدِّينِ كَالصِّبْيَانِ تم اس بات کے اہل نہیں ہو جو معارف اور ہدایت تمہیں معلوم ہو سو بچوں کی طرح دین کے ساتھ کھیلتے ہو۔