القصائد الاحمدیہ — Page 144
۱۴۴ اَعْطَى الْوَرَى بِدِلَائِهِ مَاءً مَّعِيْنًا سَيِّغَا اس نے اپنے بوکوں کے ساتھ خلقت کو پانی خوشگوار پلایا۔ اَرْوَى الْخَلَائِقَ كُلَّهُمُ إِلا لَئِيمًا أَبْدَغَا اور تمام خلقت کو سیراب کیا بجز اس کے جولئیم اور بدی سے آلودہ تھا۔ مَنْ جَاءَهُ مُتَبَخْتِرًا وَارَى مُدَى أَوْ مِبْذَغَا جو شخص اس کے آگے تکبر سے خراماں آیا اور اپنی کار دیں اور نشتر دکھلائے ۔ فَتَرَاهُ مَغْلُوبًا عَلَى تُرْبِ الْهَوَانِ مُمَرَّغَا پس تو اس کو دیکھے گا کہ وہ مغلوب ہو گیا اور ذلت کے خاک پر لیٹا۔ سَيْف يُكَسِّرُ ضِرْسَ مَنْ بَارَى وَجَاءَ مُتَغْشِغَا وہ ایک تلوار ہے جو اس کے دانت توڑتی ہے جو اس کے مقابل پر آیا۔ اسَدٌ يُمَدِّقَ صَولُهُ إِنْ رَاغَ جَمَلٌ أَوْ رَغَا وہ ایک شیر ہے جو اس کا حملہ اس اونٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے جس نے اس کی طرف منہ کیا یا آواز کی ۔ وَيْلٌ لِكَفَّارٍ لَّدِيغ لايُفَارِقُ مَلْدَغَــا اس کا فرمارگزیدہ پر واویلا ہے جو اس جگہ سے علیحدہ نہیں ہوتا جہاں سے کاٹا گیا۔ وَيْلٌ لِمَنْ بَزَغَتْ لَهُ شَمُسٌ فَعَادَى مَبْزَغَا اس شخص پر واویلا ہے جس کے لئے سورج چمکا اور پھر وہ مطلع الشمس سے دشمنی کرنے لگا۔ مَنْ فَرَّ مِنْ فَيُضَانِهِ الأعْلَى وَمِمَّا أَفْرَغَا جو شخص اس کے فیضان سے اور فیضان شدہ باتوں سے بھاگا مَا كَانَ قَلْبًا تَائِبًا بَلْ كَانَ لَحْمًا أَسْلَغَا وہ رجوع کرنے والا دل نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا گوشت تھا جو گداز نہ ہوا۔ ( نور الحق جلد اول ۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۶۴-۱۶۵)