القصائد الاحمدیہ — Page 142
۱۴۲ ۱۵ القَصِيدَةُ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَ شَأْنِ كِتَابِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ قصیدہ قرآن کے فضائل اور کتاب اللہ کی شان میں لَمَّا اَرَى الْفُرْقَانُ مِيُسَمَهُ تَرَدَّى مَنْ طَغَى جب قرآن نے اپنی شکل دکھلائی تو ہر یک طاغی نیچے گر گیا۔ مَنْ كَانَ نَابِعَ وَقُتِهِ جَاءَ الْمَوَاطِنَ الْغَا جو شخص اپنے وقت کا فصیح اور جلد گو تھا وہ کند زبان ہو کر میدان میں آیا۔ وَ إِذَا أَرَى وَجْهَا بِأَنْوَارِ الْجَمَالِ مُصَبَّغَا اور جب قرآن نے اپنا ایسا چہرہ دکھایا جو انوارِ جمال سے رنگین تھا فَدَرَى الْمُعَارِضُ أَنَّهُ أَلْغَا الْفَصَاحَةَ أَوْ لَغَا تو معارض سمجھ گیا کہ وہ قرآن کے معارضہ میں فصاحت بلاغت سے دور ہے اور لغو بک رہا ہے۔ مَنْ كَانَ ذَاعَيْنِ النُّهَى فَإِلَى مَحَاسِنِهِ صَغَى جو شخص عقلمند تھا وہ قرآن کے محاسن کی طرف مائل ہو گیا۔ الا الَّذِى مِنْ جَهْلِهِ أَبْغَى الضَّلَالَةَ أَوْ بَغَى ہاں وہ باقی رہا جو گمراہی کا مددگار بنا اور ظلم اختیار کیا۔ عَيْنُ المَعَارِفِ كُلِّهَا أَتَاهُ حِبُّ مُبْتَغَى تمام معارف کا چشمہ خدا تعالیٰ نے قرآن کو دیا لَا يُبَنَّ بِبَحْرِهِ الدَّخَارِ كَلبًا مُّوْلَغَا اور اس کے بحر زخار سے اس کتے کو خبر نہیں دی جاتی جس کو تھوڑا سا پانی پلایا جاتا ہے۔