القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 136

۱۳۶ يَا مُسْتَعَانِي لَيْسَ دُونَكَ مَلْجَأَى فَانصُرُ وَ أَيَّدْنَا لِهَدْمِ قِنَانِهِمُ اے میرے مددگار ! تیرے سوا میری کوئی پناہ نہیں پس مدد کر اور ان کے پہاڑوں کے توڑنے کے لئے ہماری تائید فرما۔ يَامَنُ يُعَيِّرُنِي بِمَوْتِ الهِهِمْ أَفَلَا تَرَى مَاجَةً أَصْلَ اِهَانِهِمُ اے وہ شخص جو مجھے اس لئے سرزنش کرتا ہے کہ میں ان کے مصنوعی خدا یعنی حضرت عیسے کی موت کا قائل ہوں کیا تو دیکھتا نہیں کہ کس اعتقاد نے ان کی بیج کنی کی ہے۔ وَاللَّهِ إِنَّ حَيَاتَ عِيسَى حَيَّةٌ تَسْعَى لِتُهْلِكَ كُلَّ مَنْ فِي خَانِهِمْ بخدا! حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ایک سانپ ہے۔ وہ سانپ دوڑتا ہے تا ان سب کو قتل کرے جو ان کی سرائے میں ہیں ۔ جَعَلَ الْمُهَيْمِنُ حِكْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فِي مَوْتِ عِيسَى قَطْعُ عِرْقٍ جِرَانِهِمُ خدا تعالیٰ نے اس بات میں حکمت رکھی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی موت سے ان کا مذہب ذبح کیا جائے۔ كَيْفَ الْحَيَاةُ وَقَدْ تُوُفِّيَ مِثْلُهُ حِزْبٌ وَخَيْرُ الْخَلْقِ بَعْدَ زَمَانِهِمُ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسے زندہ ہوں حالانکہ ان سے پہلے جتنے نبی آئے وہ فوت ہو گئے ہیں اور جو سب سے بہتر تھا اور پیچھے آیا وہ بھی فوت ہو گیا۔ هَلْ غَادَرَ الْحَتِّفُ الْمُفَاجِيءُ مُرْسَلًا أَمْ هَلْ سَمِعْتَ الْحَيَّ مِنْ أَقْرَانِهِمُ کیا اچانک پکڑنے والی موت نے کسی رسول کو بھی چھوڑا یا تو نے کبھی سنا کہ ان ہم مرتبوں میں سے کوئی زندہ رہا؟ ا تُغِيظُ رَبَّكَ لِابْنِ مَرْيَمَ حِشْنَةً وَتَحِيدُ عَنْ مَّوْلَى إِلَى إِنْسَانِهِمُ کیا تو اپنے رب کو ابن مریم کے لئے غصہ دلاتا ہے؟ کیا کچھ کینہ ہے اور مولیٰ کریم سے تو دور ہو کر عیسائیوں کے انسان کی طرف جاتا ہے۔ فَاطْلُبُ هُدَاهُ وَ مَا أَخَالُكَ تَطْلُبُ فَاخْسَا وَكُنْ مِنْهُمْ وَمِنْ إِخْوَانِهِمْ سوتو اللہ کی ہدایت کو ڈھونڈ اور مجھے امید نہیں کہ تو ڈھونڈے پس دفع ہوا اور عیسائیوں میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے ہوجا۔ يَامَنُ تَظَنَّى الْبَوْلَ مَاءً بَارِدًا اَخْطَاتَ مِنْ جَهْلٍ بِاسْتِسْمَانِهِمْ اے وہ شخص جس نے بول کو ٹھنڈا پانی سمجھ لیا تو نے اپنی نادانی سے خطا کی اور لاغروں کو موٹا خیال کیا۔ يَارَبِّ أَرِنِي يَوْمَ كَسْرِ صَلِيبِهِمْ يَارَبِّ سَلِّطْنِي عَلَى جُدْرَانِهِمْ اے میرے رب ! صلیب کا ٹوٹنا مجھے دکھلا ۔ اے میرے رب ! ان کی دیواروں پر مجھ کو مسلط کر۔