القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 122

۱۲۲ وَمِنْهُمْ مَّنْ تَلَبَّبَ مُسْتَشِيطًا لِحَرْبِ الصَّادِقِينَ وَلِلطَّعَانِ اور بعض نے قرآن کے مقابلہ سے عاجز آ کر ہتھیار باندھے اور غضب میں آکر راستبازوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ فَأَنْتُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ مَا أُصِيبُوا بِضَعْضَعَةِ السُّيُوفِ مِنَ الْهَوَانِ سوتم سن چکے ہو کہ ان کو کیا کیا سزائیں ملیں اور تلواروں کی سرکوبی سے کیسی ذلت اٹھائی۔ وَكَانَ جَزَاء سَلِّ السَّيْفِ سَيْفًا فَذَاقُوْا مَا أَذَاقُوْا كَالْجَبَانِ اور تلوار کھیچنے کا بدلہ تلوار ہی تھی سو جو کچھ انہوں نے مسلمانوں کو چکھایا وہ آپ ہی بزدل ہو کر چکھنا پڑا یعنی تلوار کھینچنے والے تلوار ہی سے مارے گئے ۔ إِذَا دَارَتْ رَحَى البَلُوى عَلَيْهِمْ فَكَانُوا لُهْوَةً فَوْقَ الدِّهَانِ اور جبکہ سختی کی چکی ان پر چلی سوایسے ہو گئے جیسا کہ آٹے کی ایک مٹھی چکی کے اس سرخ چمڑے پر ہوتی ہے جو چکی کے نیچے بچھایا جاتا ہے۔ فَطَفِقُوا يَهْرُبُونَ كَمِثْلِ جُيُنٍ فَأُخِذُوا ثُمَّ قُتِلُوا مِثْلَ ضَأْنِ سوانہوں نے ایک نامرد کی طرح بھاگنا شروع کیا پس پکڑے گئے اور بھیڑوں کی طرح قتل کئے گئے ۔ إِذَا مَا شَاهَدُوا قَتُلَى كَقُنَنٍ فَرَفَعُوا طَاعَةً عَلَمَ الْآمَانِ اور جبکہ انہوں نے اپنے مقتولوں کو ٹیلوں کی طرح دیکھا تب انہوں نے امان طلب کرنے کے لئے جھنڈیاں اٹھا ئیں ۔ سُرَاةُ الْحَيِّ جَاءُوا نَادِمِينَا فَرَحِمَ الْمُصْطَفَى بَحْرُ الْحَنَانِ اور قبیلہ کے سردار شرمندہ ہو کر آئے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دریائے بخشش ہے ان کا گناہ معاف کیا۔ وَأَمَّا الْجَاهِلُونَ فَمَا أَطَاعُوا فَأَعْدَمَهُمْ فُنُوسُ الْإِحْتِفَانِ مگر جاہلوں نے ان کا حکم نہ مانا سو بیخ کنی کے تبروں نے ان کو معدوم کیا۔ سُقُوا كَأْسَ الْمَنَايَا ثُمَّ سِيقُوا إِلى نَارٍ تُلَوِّحُ وَجْهَ جَانِي موت کے پیالے ان کو پلائے گئے اور پھر وہ اس آگ کی طرف کھینچے گئے جو مجرم کا منہ جلاتی تھی۔ فَهَذَا أَجْرُ جَهْلِ الْجَاهِلِينَا مِنَ الرَّحْمَانِ عِنْدَ الْإِسْتِنَانِ سو یہ جاہلوں کے جہل کی سزا تھی ۔ یہ سزا خدا تعالیٰ کی طرف سے اس وقت ہوئی جب انہوں نے فسادوں اور ظلموں میں دوڑ نا اختیار کیا۔