القصائد الاحمدیہ — Page 105
۱۰۵ إِذَا قِيلَ إِنَّكَ مُرْسَلٌ خِلْتُ اَنَّنِي دُعِيْتُ إِلَى أَمْرٍ عَلَى الْخَلْقِ يَعْسَرُ جب کہا گیا کہ تو رسول ہے تو میں نے خیال کیا کہ میں ایک ایسے امر کی طرف بلایا گیا ہوں جو مخلوق پر گراں گزرے گا۔ وَ كُنتُ عَلَى نُورٍ فَزَاغُوا مِنَ الْعَمَى وَ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَ رَجُلٌ يُبْصِرُ اور میں تو نور پر قائم تھا سو وہ اندھے پن سے ٹیڑھے ہو گئے اور کیا برابر ہو سکتا ہے اندھا اور وہ شخص جو دیکھ رہا ہے۔ وَمَا دِينُنَا إِلَّا هِدَايَةُ أَحْمَدَ فَيَا لَيْتَ شِعْرِى مَا يَظُنُّ الْمُكَفِّرُ اور نہیں ہے ہمارا کوئی دین سوائے احمد کی ہدایت کے ۔ کاش میں جانتا کہ کیا ہے وہ بات جسے مکفر ( دین و ہدایت ) گمان کر رہا ہے۔ وَ قَدْ كُنْتُ أَنْسى كُلَّ جَوْرِ مُعَيِّرِى وَلَكِنَّهُ جَوْرٌ كَبِيرٌ مُكَوَّرُ اور میں ہر ظلم بھلا دیتا رہا ہوں اپنے عیب لگانے والے کا۔لیکن یہ تو ایک کئی گنا بڑا ظلم ہے۔ وَكَمْ مِنْ دَلَائِلَ قَدْ كَتَبْتُ لِطَالِبِ يُفَكِّرُ فِيهَا لَوْ ذَعِيٌّ مُدَبِّرُ اور بہت سے دلائل ہیں جو میں نے طالب حق کے لئے لکھے ہیں ایک مدبر عالم ان میں سوچ سے کام لے گا۔ الَا أَيُّهَا الْمُتَكَبِّرُ الْمُتَشَدِّدُ تُرِيدُ هَوَانِي وَالْكَرِيمُ يُعَزِّرُ اے متکبر تشد دکرنے والے ! تو میری ذلت چاہتا ہے حالانکہ کریم خدا مجھے عظمت دے رہا ہے۔ وَإِذْ قُلْتُ إِنِّي مُسْلِمٌ قُلْتَ كَافِرٌ فَأَيْنَ التَّقَى يَا أَيُّهَا الْمُتَهَوِّرُ اور جب میں نے کہا میں مسلمان ہوں ۔ تو نے کہا کا فر ہے۔ تو کہاں چلا گیا تقوی ؟ اے دلیری کرنے والے ! وَ بَعْدَ بَيَانِي أَيْنَ تَذْهَبُ مُنْكِرًا اَتَعْلَمُ يَا مِسْكِينُ مَا هُوَ مُضْمَرُ اور میرے بیان کے بعد تو انکار کرتا ہوا کہاں جائے گا ؟ اے مسکین ! کیا تو جانتا ہے اس امر کو جو پوشیدہ ہے؟ فَلَا تَتَجَرَّعُ أَيُّهَا الضَّالُ فِي الْهَوَى بِأَيْدِيكَ كَأْسَ الْمَوْتِ مَالَكَ تَحْضُرُ اے حرص و ہوا میں گمراہ ! تو گھونٹ گھونٹ مت پی اپنے ہاتھوں سے موت کا پیالہ جو تیرے لئے آ رہا ہے۔ وَإِنْ كُنْتَ لَا تَخْشَى فَقُلْ لَسْتَ مُؤْمِنًا وَيَأْتِي زَمَانٌ تُسْتَلَنَّ وَتُخْبَرُ اور اگر تو ڈرتا نہیں تو ( مجھے ) کہتارہ کہ تو مومن نہیں اور ایک زمانہ آئے گا کہ تجھ سے ضرور پوچھا جائے گا اور تجھے پتہ لگ جائے گا۔