سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 69

صلى الله سيرة النبي علي ہوں گے 54 ۔ 54 جلد 7 سراقہ کا تعاقب اور اُس کے متعلق جب مکہ والے آپ کی تلاش میں ناکام آنحضرت کی ایک پیشگوئی رہے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو ﷺ ایک محمد رسول للہ صل اللہ علیہ وسلم) صلى الله یا ابوبکر کو زندہ یا مردہ واپس لے آئے گا اُس کو 100 اوٹنی انعام دی جائے گی اور اس اعلان کی خبر مکہ کے اردگرد کے قبائل کو بھیجوا دی گئی ۔ چنانچہ سراقہ بن مالک ایک بدوی رئیس اس انعام کے لالچ میں آپ کے پیچھے روانہ ہوا۔ تلاش کرتے کرتے اُس نے مدینہ کی سڑک پر آپ کو جالیا۔ جب اُس نے دو اونٹیوں اور ان کے سواروں کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھی ہیں تو اُس نے اپنا گھوڑا اُن کے پیچھے دوڑا دیا ۔ مگر راستہ میں گھوڑے نے زور سے ٹھوکر کھائی اور سراقہ گر گیا ۔ سراقہ بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنا واقعہ خود اس طرح بیان کرتا ہے کہ جب میں گھوڑے سے گرا تو میں نے عربوں کے دستور کے مطابق اپنے تیروں سے فال نکالی اور فال بری نکلی مگر انعام کے لالچ کی وجہ سے میں پھر گھوڑے پر سوار ہو کر پیچھے دوڑا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقار کے ساتھ اپنی اونٹنی پر سوار چلے جا رہے تھے۔ اُنہوں نے مڑ کر مجھے نہیں دیکھا لیکن حضرت ابوبکر ( اس ڈر سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہ پہنچے ) بار بار منہ پھیر کر مجھے دیکھتے تھے۔ جب دوسری دفعہ میں اُن کے قریب پہنچا تو پھر میرے گھوڑے نے زور سے ٹھوکر کھائی اور میں گر گیا۔ اس پر پھر میں نے اپنے تیروں سے فال لی اور فال خراب نکلی ۔ میں نے دیکھا کہ ریت میں گھوڑے کے پاؤں اتنے دھنس گئے تھے کہ اُن کا نکالنا مشکل ہو رہا تھا۔ تب میں سمجھا کہ یہ لوگ خدا کی حفاظت میں ہیں اور میں نے اُنہیں آواز دی کہ ٹھہرو اور میری بات سنو ! جب وہ لوگ میرے پاس آئے تو میں نے اُنہیں بتایا کہ میں اس اس ارادہ سے یہاں آیا تھا مگر اب میں نے اپنا ارادہ بدل دیا