سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 62

سيرة ة النبي علي صلى الله 47 جلد 7 کا خاتمہ کر دیا ہے خدا کا کلام متواتر اسلام کی فتوحات کی خبریں دے رہا تھا اور بتا رہا تھا صلى الله کہ مکہ والوں کی تباہی کی گھڑی قریب سے قریب تر آ رہی ہے۔ چنانچہ انہی ایام میں محمد رسول اللہ ﷺ نے بڑے زور سے خدا تعالیٰ کی اس وحی کا اعلان کیا کہ وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِنْ رَّبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى وَلَوْ انَّا أَهْلَكْنُهُمْ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْ لَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ ايْتِكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَّ وَنَخْزُى - قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصُ فَتَرَبَّصُوا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَ مَنِ اهْتَدَى 46 - یعنی مکہ والے کہتے ہیں کہ کیوں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ربّ کے پاس سے کوئی نشان ہمارے لئے نہیں لاتا۔ کیا پہلے نبیوں کی پیشگوئیاں جو اس کے حق میں ہیں وہ اُن کے لئے کافی نشان نہیں ہے؟ ہم اگر پوری تبلیغ سے پہلے ہی مکہ والوں کو ہلاک کر دیتے تو مکہ والے کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب ! کیوں تو نے ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیری تعلیموں کے پیچھے چلتے ۔ تو کہہ دے ہر شخص کو اپنے وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے پس تم بھی اُس گھڑی کا انتظار کرو جب حجت تمام ہو جائے گی تب تم یقیناً جان لو گے کہ سیدھے راستہ پر اور خدا تعالیٰ کی ہدایت پر کون چل رہا ہے ۔ ہر روز خدا کی نئی وحی نازل ہو رہی تھی اور ہر روز وہ اسلام کی ترقی اور کفار کی تباہی کی خبریں دے رہی تھی ۔ مکہ والے ایک طرف اپنی طاقت اور شوکت کو دیکھتے تھے اور دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی کمزوری کو دیکھتے تھے اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں خدا تعالیٰ کی نصرتوں اور مسلمانوں کی کامیابیوں کی خبریں پڑھتے تھے تو حیران ہو کر سوچتے تھے کہ آیا وہ پاگل ہو گئے ہیں یا محمد رسول اللہ پاگل ہو گیا ہے ۔ مکہ والے تو یہ امیدیں کر رہے تھے کہ ہمارے ظلموں رو اور ہماری تعدی کی وجہ سے اب مسلمانوں کو مایوس ہو کر ہماری طرف آ جانا چاہئے اور