سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 57
لله صلى الله سيرة النبي 42 جلد 7 ایمان پر کہ وہ اپنے آپ کو کلی طور پر خدا کی طرف سے سمجھتا تھا ایک بہت تیز روشنی ڈالتا ہے 40 ۔ مکہ نے پھر ایذا دہی اور استہزاء کے دروازے کھول دیئے ۔ پھر خدا کے نبی کے لئے اُس کا وطن جہنم کا نمونہ بننے لگا ۔ مگر اس پر بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم دلیری سے لوگوں کو خدا کی تعلیم پہنچاتے رہے۔ مکہ کے گلی کوچوں میں ” خدا ایک ہے خدا ایک ہے“ کی آوازیں بلند ہوتی رہیں ۔ محبت سے، پیار سے، خیر خواہی سے آپ مکہ والوں کو بت پرستی کے خلاف وعظ کرتے رہے۔ لوگ بھاگتے تھے تو آپ اُن کے پیچھے جاتے تھے ۔ لوگ منہ پھیرتے تھے تو آپ پھر بھی باتیں سنائے چلے جاتے تھے۔ صداقت آہستہ آہستہ گھر کر رہی تھی۔ وہ تھوڑے سے مسلمان جو ہجرت حبشہ سے بچے ہوئے مکہ میں رہ گئے تھے وہ اندر ہی اندر اپنے رشتہ داروں ، دوستوں ، ساتھیوں اور ہمسایوں میں تبلیغ کر رہے تھے ۔ بعض کے دل ایمان سے منور ہو جاتے تھے تو عَلَی الاعلان اپنے مذہب کا اظہار کر دیتے تھے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ماریں کھانے اور تکلیفیں اٹھانے میں شریک ہو جاتے تھے مگر بہت تھے جنہوں نے روشنی کو دیکھ تو لیا مگر اُس کے قبول کرنے کی ان کو توفیق نہیں ملی تھی۔ وہ اُس دن کا انتظار کر رہے تھے جب خدا کی بادشاہت زمین پر آئے اور وہ اُس میں داخل ہوں ۔ باشندگان مدینہ کا قبول اسلام اسی عرصہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالی سے بار بار دی تجاری خدا تعالیٰ کی طرف سے بار بارخبر دی جا رہی تھی کہ تم کہ تمہارے لئے ہجرت کا وقت آ رہا ہے اور آپ پر یہ بھی کھل چکا تھا کہ آپ کی ہجرت کا مقام ایک ایسا شہر ہے جس میں کنویں بھی ہیں اور کھجوروں کے باغ بھی پائے جاتے ہیں۔ پہلے آپ نے یمامہ کی نسبت خیال کیا کہ شاید وہ ہجرت کا مقام ہو گا 41 مگر جلد ہی یہ خیال آپ کے دل سے نکال دیا گیا اور آپ اس انتظار میں لگ گئے کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق جو شہر بھی مقدر ہے وہ اپنے آپ کو اسلام کا