سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 432

سيرة النبي علي الله صلى الله 417 جلد 7 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دیکھا کہ بادشاہ جب وزراء اور ان سے کی حفاظت خاص کا وعدہ وہ بادشاہ اور اس کے خاندان کی حفاظت کریں گے مگر میں نے اس دربارِ خاص کا یہ طریق دیکھا کہ جب اس دربار میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گورنر جنرل مقرر کیا گیا تو ساتھ ہی کہہ دیا گیا کہ یاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكُفِرِينَ ) یعنی اے ہمارے رسول ! ہم نے تیری طرف جو کچھ نازل کیا ہے تو اسے لوگوں تک پہنچا دے اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو تیری رسالت کا کام نا تمام رہے گا بیشک اس کام میں تجھے مشکلات پیش آئیں گی ، اپنے اور بیگانے تیری مخالفت میں کھڑے ہو جائیں گے اور وہ کوشش کریں گے کہ تجھے کچل کر رکھ دیں اور تیرے نام کو صفحہ ہستی سے معدوم کر دیں مگر خدا اُن کو نا کام کرے گا اور وہ تجھے لوگوں کے تمام حملوں سے محفوظ رکھے گا۔ یہ کیسا دیوان خاص ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات الگ بھی کی جاتی ہے اور پھر دیوانِ عام میں سنانے کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس اعلان کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچے تو ہم ذمہ دار ہیں ۔ دشمنوں کی عبرت ناک ناکامی کا مرقع دنیا نے اس اعلان کو سنا تو وہ حقارت کے ساتھ ہنسی اور اُس نے سمجھا کہ وہ اپنی کوششوں سے اس گورنر جنرل کے غلبہ اور اقتدار کو روک سکے گی اور اسے تباہ و برباد کر دے گی مگر واقعات بتاتے ہیں کہ دشمنوں کی ہر تد بیر نا کام ہوئی اور اکام ہوئی او خدا تعالیٰ کی حفاظت ہمیشہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شامل حال رہی ۔ علیہ وسلم ۔ حضرت عمر کا ارادہ قتل چنانچہ دیکھ لو جب مکہ میں اسلام نے ترقی کرنی شروع کی اور کفار کی تمام تدابیر کے باوجود