سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 42
سيرة النبي علي صلى الله 27 جلد 7 کرو ۔ قتیموں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو اور اُن کی خبر گیری کو اعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھو۔ بیواؤں کا سہارا بنو ۔ نیکیوں اور تقویٰ کو قائم کرو ۔ انصاف اور عدل ہی نہیں بلکہ رحم اور احسان کو اپنا شعار بناؤ ۔ اس دنیا میں تمہارا آنا بیکار نہ جانا چاہئے ۔ اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑ و تا دائمی نیکی کا بیج بویا جائے ۔ حق لینے میں نہیں بلکہ قربانی اور ایثار میں اصل عزت ہے ۔ پس تم قربانی کرو۔ خدا کے قریب ہو۔ خدا کے بندوں کے مقابل پر ایثار کا نمونہ دکھاؤ تا خدا تعالیٰ کے ہاں تمہارا حق قائم ہو۔ بے شک ہم کمزور ہیں مگر ہماری کمزوری کو نہ دیکھو ۔ آسمان پر سچائی کی حکومت کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے عدل کا ترازو رکھا جائے گا اور انصاف اور رحم کی حکومت قائم کی جائے گی جس میں کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کی جائے گی۔ عورتوں اور غلاموں پر جو ظلم ہوتے رہے ہیں انہیں مٹا دیا جائے گا اور شیطان کی حکومت کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کر دی جائے گی ۔ کفار مکہ کی ابو طالب کے پاس شکایت جب تعلیمیں بار بار کہ دلوں کو سنائی جانے لگیں اور شریف الطبع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقلال لوگوں کی رغبت اسلام کی طرف بڑھنے لگی تو ایک دن مکہ کے سردار جمع ہو کر آپ کے چا ابو طالب کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ آپ ہمارے رئیس ہیں اور آپ کی خاطر ہم نے آپ کے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کچھ نہیں کہا۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ کے ساتھ ہم آخری فیصلہ کریں۔ یا تو آپ اُسے سمجھائیں اور اس سے پوچھیں کہ آخر وہ ہم سے چاہتا کیا ہے۔ اگر اُس کی خواہش عزت حاصل کرنے کی ہے تو ہم اسے اپنا سردار بنانے کے لئے تیار ہیں۔ اگر وہ دولت کا خواہش مند ہے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے مال کا کچھ حصہ اُس کو دینے کے لئے تیار ہے۔ اگر اُسے شادی کی خواہش ہے تو مکہ کی ہرلڑکی جو اُسے پسند ہو اُس کا نام لے ہم اُس سے اُس کا بیاہ کرانے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم اس کے بدلہ میں اُس