سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 399

صلى الله سيرة النبي علي 384 جلد 7 رسول کریم ﷺ کی حقیقی عظمت حضرت مصلح موعود نے 28 دسمبر 1951 ء کو جلسہ سالانہ ربوہ میں سورۃ مدثر کی آیات 2 تا 8 کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :۔ وو قرآنی دربار کی سن لو یہاں ایک بڑے بھاری جرنیل کا تقرر ہوتا ہے اسے در بار خاص میں بلایا جاتا ہے اور اعلان پڑھا جاتا ہے کہ ہم نے آپ کو مقرر کیا اب بلایا ہے اور جاتا نے ہے کہ ہم آپ کو ہدایتیں دیتے ہیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے کس طرح کرنا ہے اور کس کس طریق سے اس کام کو سرانجام دینا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ - قُمْ فَانْذِرْ - وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ - وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ - وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ - وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ - وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ - 1 1- میلاد النبی کے وعظ یہ آیات تو قرآن کریم میں تیرہ سو سال سے موجود ہیں اور علماء نے ان آیات کی تفسیریں بھی لکھی ہیں لیکن آج کل کے مولویوں کے وعظ خصوصاً میلاد النبی کے تم نے سنے ہی ہوں گے جب وہ ان آیات کی تفسیر شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں ۔ ه او کملی والیا! اے زلفاں والیا ! اے کملی والیا! ایک ہندو وکیل سے گفتگو میں ایک دفعہ فیروز پور گیا وہاں ایک ہندو وکیل دفعہ پور وہاں ہندو جو اچھا ہوشیار اور آریہ سماج کا سیکرٹری تھا مجھ سے ملنے کے لئے آیا اور کہنے لگا آپ کہتے ہیں ہندو مسلمان لڑتے رہتے ہیں مگر کیا آپ نے کبھی بتایا بھی کہ اسلام کیا چیز ہے؟ میں نے کہا تمہیں کیا بتائیں؟ کہنے لگے