سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 371
صلى الله سيرة النبي علي 356 جلد 7 یہاں تک کہ عرش سے خدا تعالیٰ نے کہا فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ ۔ یعنی بیشک بدر کے موقع پر بعض صحابہؓ نے نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا لیکن کچھ صحابہ ایسے بھی تھے جو اس انتظار میں تھے کہ انہیں موقع ملے موقع ملے تو وہ جان تک قربان کر دیں ۔ بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ یہ کمزوری کی علامت ہے لیکن وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ۔ انہوں نے جو کچھ کہا تھا اُسے پورا بھی کر دکھایا۔ پس مومن کی علامت تو یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ ہر وقت قربانی کے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ جیسے چڑیاں دانے کی تلاش میں رہتی ہیں اسی طرح مومن قربانی کے راستوں کی تلاش میں رہتا رہتا ہے ہے۔ ۔ وہ رستے تلاش کرنے سے گھبرا تا نہیں بلکہ رستہ مٹ جاتا ہے تو گھبراتا ہے ۔ خالد بن ولید سے مسلمانوں کا بچہ بچہ واقف ہے۔ وہ جب فوت ہونے لگے تو اُن کے ایک دوست اُن کے پاس گئے ۔ وہ رو رہے تھے ۔ آپ کے اس دوست نے کہا خالد ! مرنا تو سب نے ہے پھر تم رو کیوں رہے ہو؟ خالد نے کہا تم بھی میری طبیعت کو نہیں سمجھے۔ میں اس وجہ سے نہیں روتا کہ میں موت سے ڈرتا ہوں بلکہ میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ میں نے شہادت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی اور میں بستر پر مر رہا ہوں ۔ میری ٹانگوں سے کپڑا اٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کا زخم نہیں؟ انہوں نے ٹانگوں پر سے کپڑا اٹھایا اور رانوں تک لے گئے اور کہا خالد ! یہاں کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آتی جہاں تلوار کا زخم نہ ہو۔ پھر انہوں نے اپنا سینہ دکھایا ، بازو دکھائے ، پیٹھ دکھائی لیکن وہاں بھی کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں تلوار کا زخم نہ ہو۔ خالد کہنے لگے کیا اب تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے کوئی ایسا موقع جانے دیا ہے کہ جب دشمن کا وار اپنے اوپر نہ لیا ہو؟ میں خطر ناک سے خطرناک جگہ پر گیا تاکسی طرح شہادت نصیب ہو، میرے جسم کی ہر جگہ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ مجھے شہادت کا انتہائی شوق تھا لیکن پھر