سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 288
صلى الله سيرة النبي علي 273 جلد 7 دوستوں تک کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ جب کبھی آپ قربانی کرتے تو آپ حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف ضرور گوشت بھجواتے اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خدیجہ کی سہیلیوں کو نہ بھولنا اُن کی طرف گوشت ضرور بھیجوانا 319 - ایک دفعہ حضرت خدیجہ کی وفات کے کئی سال بعد آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ آپ سے ملنے آئیں اور دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟ ہالہ کی آواز میں اُس وقت اپنی مرحومہ بہن حضرت خدیجہ سے بے انتہا مشابہت پیدا ہو گئی ۔ اس آواز کے کان میں پڑتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کپکپی آ گئی پھر آپ سنبھل گئے اور فرمایا آہ میرے خدا! یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہ ہیں 320 در حقیقت سچی محبت کا اصول ہی یہی ہے کہ جس سے پیار ہو اور جس کا ادب ہو اُس کے قریبیوں اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھی محبت اور پیار پیدا ہو جاتا ہے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ سفر پر تھا جریر بن عبداللہ ایک دوسرے صحابی بھی اس سفر میں ساتھ تھے وہ سفر میں نوکروں کی طرح میرے کام کیا کرتے تھے ۔ جریر بڑے تھے اور اُن کا ادب حضرت انس اپنے لئے ضروری سمجھتے تھے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ میں انہیں منع کرتا تھا کہ ایسا نہ کریں ۔ میرے ایسا کہنے پر جریر جواب میں کہتے تھے میں نے انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے انتہا خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ میں نے اُن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ محبت دیکھ کر اپنے دل سے عہد کیا تھا کہ جب کبھی مجھے کسی انصاری کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملے گایا اس کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا تو میں اُس کی خدمت کروں گا اس لئے آپ مجھے نہ روکیں میں اپنی قسم پوری کر رہا ہوں 321 ۔ اس واقعہ سے بالوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کی خدمت کرنے والا بھی انسان کا محبوب ہو جاتا ہے پس جن لوگوں کے دلوں میں اپنے ماں باپ کا سچا ادب اور احترام ہوتا ہے وہ اپنے