سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 196

سيرة النبي علي صلى الله 181 جلد 7 پس اُس نے اپنی خیر اسی میں سمجھی کہ پیغامبر کو مار دے تا کہ نہ پیغام پہنچے اور نہ کوئی تحقیقات ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اُس کے ان بدا رادوں کو پورا نہ ہونے دیا اور رسول اللہ سکر اللہ تعالیٰ را دوں نہ دیا اور اله صلی اللہ علیہ وسلم کو حارث کے مارے جانے کی خبر کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی گئی اور آپ نے اس پہلے واقعہ اور اس واقعہ کی سزا دینے کے لئے تین ہزار کا لشکر تیار کر کے زید بن حارثہ ( جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے اور جن کا آپ کی مکی زندگی میں ذکر آ چکا ہے ) کی ماتحتی میں شام کی طرف بھیجوایا اور حکم دیا کہ زید بن حارثہ فوج کے کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ مارے گئے تو جعفر بن ابی طالب کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ مارے گئے تو عبداللہ بن رواحہ کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ بھی مارے جائیں تو مسلمان اپنے میں سے کسی کو منتخب کر کے اپنا افسر بنا لیں ۔ اُس وقت ایک یہودی آپ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اُس نے کہا اے ابو القاسم ! اگر آپ سچے ہیں تو یہ تینوں آدمی ضرور مارے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیا کرتا ہے۔ پھر وہ زیڈ کی طرف مخاطب ہوا اور کہا میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ تم اگرم علیہ وسلم خدا کے سچے نبی ہیں تو تم کبھی زندہ واپس نہیں آؤ گے۔ زیڈ نے جواب میں کہا میں واپس آؤں یا نہ آؤں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے نبی ہیں۔ دوسرے دن صبح کے وقت یہ لشکر روانہ ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ ناس کو چھوڑنے کے لئے گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کی افسری کے بغیر اتنا بڑا لشکر کسی جرنیل کے ماتحت کسی اہم کام کیلئے نہیں گیا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لشکر کے ساتھ ساتھ چلتے جاتے تھے اور انہیں نصیحتیں کرتے جاتے تھے۔ آخر مدینہ کے باہر اس مقام پر جا کر جہاں سے آپ مدینہ میں داخل ہوئے تھے اور جس جگہ پر عام طور پر مدینہ والے اپنے مسافروں کو رخصت کیا کرتے تھے آپ کھڑے ہو گئے اور کہا میں تم کو اللہ کے تقوی کی نصیحت کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ جتنے مسلمان ہیں اُن سے نیک سلوک کرنے کی ۔ تم اللہ کا نام لے کر جنگ پر جاؤ اور