سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 183

سيرة النبي علي صلى الله اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ 158 168 جلد 7 یہ خط بعینہ وہی ہے جو روم کے بادشاہ کو لکھا گیا تھا صرف یہ فرق ہے کہ اُس میں یہ لکھا تھا کہ اگر تم نہ مانے تو رومی رعایا کے گناہوں کا بوجھ بھی تم پر ہو گا اور اس میں یہ تھا کہ قبطیوں کے گناہوں کا بوجھ تم پر ہو گا۔ جب حاطب عصر پہنچے تو اُس وقت مقوقس اپنے دارالحکومت میں نہیں تھا بلکہ اسکندریہ میں تھا۔ حاطب اسکندریہ گئے جہاں بادشاہ نے سمندر کے کنارے ایک مجلس لگائی ہوئی تھی ۔ حاطب ایک کشتی میں سوار ہو کر اُس مقام تک گئے اور چونکہ اردگرد پہرہ تھا اُنہوں نے دور سے خط کو بلند کر کے آوازیں دینی شروع کیں ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس شخص کو لایا جائے اور اس کی خدمت میں پیش کیا جائے ۔ بادشاہ نے خط پڑھا اور حاطب سے کہا اگر یہ سچا نبی ہے تو اپنے دشمنوں کے خلاف دعا کیوں نہیں کرتا؟ حاطب نے کہا کہ تم عیسی بن مریم پر تو ایمان لاتے ہو۔ یہ کیا بات ہے کہ عیسی کو اُن کی قوم نے دکھ دیا لیکن عیسی نے یہ دعا نہ کی کہ وہ ہلاک ہو جائیں۔ بادشاہ نے سن کر کہا کہ تم ایک عقلمند کی طرف سے ایک عقلمند سفیر ہو اور تم نے خوب جواب دیا ہے۔ اس پر حاطب نے کہا اے بادشاہ! تجھ سے پہلے ایک بادشاہ تھا جو کہا کرتا تھا کہ میں بڑا رب ہوں یعنی فرعون ۔ آخر خدا نے اُس پر عذاب نازل کیا۔ پس تو تکبر نہ کر اور خدا کے اس نبی پر ایمان لے آ اور خدا کی قسم ! موسیٰ نے عیسی کے متعلق ایسی خبریں نہیں دیں جیسی عیسی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دی ہیں اور ہم تمہیں اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتے ہیں جس طرح تم لوگ یہودیوں کو عیسی کی طرف بلاتے ہو اور ہر نبی کی ایک امت ہوتی ہے اور اُس کا فرض ہوتا ہے کہ اُس کی اطاعت کرے ۔ پس جبکہ تم نے اس نبی کا زمانہ پایا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کو قبول کرو اور ہمارا دین تم کو مسیح کی اتباع سے روکتا نہیں بلکہ ہم تو دوسروں کو بھی حکم دیتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان لائیں۔ اس پر مقوقس نے کہا میں نے دوسروں جی اس نبی کے حالات سنے ہیں اور میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وہ کسی بری بات کا حکم نہیں بری بات کا حکم نہیں