سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 168
لله صلى الله سيرة ابي عليه 153 جلد 7 شرائط صلح حدیبیہ " خدا کے نام پر یہ شرائط ملح محمد بن عبداللہ ) نام پر یہ ابن ( صلی اللہ حدیبیہ علیہ وسلم ) اور سہیل ابن عمر و ( قائمقام حکومت مکہ ) اور ( کے درمیان طے پائی ہیں ۔ جنگ دس سال کے لئے بند کی جاتی ہے ۔ جو شخص محمد ( صلی اللہ ۔ علیہ وسلم ) کے ساتھ ملنا چاہے یا اُن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہے وہ ایسا کر سکتا ہے اور جو شخص قریش کے ساتھ ملنا چاہے یا معاہدہ کرنا چاہے وہ بھی ایسا کر سکتا ہے ۔ اگر کوئی لڑکا جس کا باپ زندہ ہو یا ابھی چھوٹی عمر کا ہو وہ اپنے باپ یا متولی کی مرضی کے بغیر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جائے تو اُس کے باپ یا متولی کے پاس واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیوں میں سے کوئی قریش کی طرف جائے تو اُسے واپس نہیں کیا جائے گا ۔ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے لیکن اگلے سال محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھی مکہ میں آسکتے ہیں اور تین دن وہاں ٹھہر کر کعبہ کا طواف کر سکتے ہیں۔ اس عرصہ میں قریش شہر سے باہر پہاڑی پر چلے جائیں گے لیکن یہ شرط ہو گی کہ جب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اُن کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں تو اُن کے پاس کوئی ہتھیار نہ ہو سوائے اُس ہتھیار کے جو ہر مسافر اپنے پاس رکھتا ہے یعنی نیام میں ڈالی ہوئی تلوار 147 66 اس معاہدہ کے وقت دو عجیب باتیں ہوئیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وو شرائط طے کرنے کے بعد معاہدہ لکھوانا شروع کیا تو آپ نے فرمایا ” خدا کے نام سے جو بے انتہا کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے“۔ سہیل نے اس پر اعتراض دو کیا اور کہا خدا کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ بے انتہا کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے 66 والا ہم نہیں جانتے کون ہے۔ یہ معاہدہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہے اور اس میں دونوں کے مذاہب کا احترام ضروری ہے۔ اس پر آپ نے اُس کی بات کو قبول کر لیا اور صرف اتنا ہی لکھوایا کہ ” خدا کے نام پر ہم یہ معاہدہ کرتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ لکھوایا کہ یہ شرائط صلح مکہ والوں اور محمد رسول اللہ کے درمیان ہیں ۔ اس پر پھر