سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 166
صلى الله سيرة ة النبي علي 151 جلد 7 طواف کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ ہاں مکہ والے اگر ہمیں مجبور کریں تو ہمیں لڑنا پڑے گا ۔ اس کے بعد مکہ کے کمانڈ رابوسفیان کا داماد عروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نہایت گستاخانہ طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا کہ یہ اوباشوں کا گروہ آپ اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں مکہ والے انہیں کسی صورت میں بھی اپنے شہر میں داخل ہونے نہیں دیں گے ۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے پیغامبر آتے رہے ۔ آخر مکہ والوں نے کہلا بھیجا کہ خواہ کچھ ہو جائے اس سال تو ہم آپ کو طواف نہیں کرنے دیں گے کیونکہ اس میں ہماری ہتک ہے۔ ہاں اگر آپ اگلے سال آئیں تو ہم آپ کو اجازت دے دیں گے ۔ بعض ارد گرد کے قبائل کے لوگوں نے مکہ والوں سے اصرار کیا کہ یہ لوگ صرف طواف کے لئے آئے ہیں آپ ان کو کیوں روکتے ہیں مگر مکہ کے لوگ اپنی ضد پر قائم رہے۔ اس پر بیرونی قبائل کے لوگوں نے مکہ والوں سے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ طریق بتاتا ہے کہ آپ کو شرارت مد نظر ہے صلح مد نظر نہیں اس لئے ہم لوگ آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ۔ اس پر مکہ کے لوگ ڈر گئے اور اُنہوں نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ سمجھوتہ کی کوشش کریں گے۔ جب اس امر کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے حضرت عثمان کو جو بعد میں آپ کے تیسرے خلیفہ ہوئے مکہ والوں سے بات چیت کرنے کے لئے بھیجا۔ جب حضرت عثمان مکہ پہنچے تو چونکہ مکہ میں اُن کی بڑی وسیع رشتہ داری تھی اُن کے رشتہ دار ان کے گرد اکٹھے ہو گئے اور اُن سے کہا کہ آپ طواف کر لیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال آکر طواف کریں ۔ مگر عثمان نے کہا میں اپنے آقا کے بغیر طواف نہیں کر سکتا۔ چونکہ رؤسائے مکہ سے آپ کی گفتگو لمبی ہوگئی مکہ میں بعض نے شرارت سے یہ خبر پھیلا دی کہ عثمان کو قتل کر دیا گیا ہے اور یہ خبر یہ خبر پھیلتے پھیلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی جا پہنچی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا سفیر کی جان ہر قوم میں محفوظ ہوتی ہے ۔ تم نے سنا ہے کہ