سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 157
سيرة ة النبي علي صلى الله 142 جلد 7 عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا 128 - اے مومنو! جب تم خدا کی خاطر لڑائی کے لئے باہر نکلو تو اس بات کی اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو کہ لئے باہر تو تمہارے دشمن پر حجت تمام ہو چکی ہے اور وہ بہر حال لڑائی پر آمادہ ہے اور اگر کوئی شخص یا جماعت تمہیں یہ کہے کہ میں تو صلح کرتا ہوں تو یہ مت کہو کہ تو دھوکا دیتا ہے اور ہمیں امید نہیں کہ ہم تجھ سے امن میں رہیں گے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تم خدا کی راہ میں لڑنے والے نہیں ہو گے بلکہ تم دنیا طلب قرار پاؤ گے ۔ پس ایسا مت کرو کیونکہ جس طرح خدا کے پاس دین ہے اسی طرح خدا کے پاس دنیا کا بھی بہت سا سامان ہے ۔ تمہیں یا درکھنا چاہئے کہ کسی شخص کا مار دینا اصل مقصود نہیں ۔ تمہیں کیا معلوم ہے کہ کل کو وہ ہدایت پا جائے ۔ تم بھی تو پہلے دین اسلام سے باہر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے احسان کر کے تمہیں اس دین کے اختیار کرنے کی توفیق دی۔ پس مارنے میں جلدی مت کیا کرو بلکہ حقیقت حال کی تحقیق کیا کرو۔ یاد رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب لڑائی شروع ہو جائے تب بھی اس بات کی اچھی طرح تحقیق کرنی چاہئے کہ دشمن کا ارادہ جارحانہ لڑائی کا ہے؟ کیونکہ ممکن ہے کہ دشمن جارحانہ لڑائی کا ارادہ نہ کرتا ہو بلکہ وہ خود کسی خوف کے ماتحت فوجی تیاری کر رہا اُس ہو۔ پس پہلے اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو کہ دشمن کا ارادہ جارحانہ جنگ کا تھا تب کے سامنے مقابلہ کے لئے آؤ۔ اور اگر وہ یہ کہے کہ میرا ارادہ تو جنگ کرنے کا نہیں تھا میں تو صرف خوف کی وجہ سے تیاری کر رہا تھا تو تمہیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ نہیں تمہاری جنگی تیاری بتاتی ہے کہ تم ہم پر حملہ کرنا چاہتے تھے ہم کس طرح سمجھیں کہ ہم تم سے مامون اور محفوظ ہیں بلکہ اُس کی بات کو قبول کر لو اور یہ سمجھو کہ اگر پہلے اُس کا ایسا ارادہ بھی تھا تو ممکن ہے بعد میں اس میں تبدیلی پیدا ہو گئی ہو ۔ تم خود اس بات کے زندہ گواہ ہو کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے تم پہلے اسلام کے دشمن تھے مگر اب تم