سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 154

سيرة النبي علي صلى الله 139 جلد 7 ادائیگی میں روکیں پیدا نہ ہوں ۔ اگر دشمن کسی ایسی جگہ پر جنگ کی طرح نہ ڈالے جہاں جنگ کرنے سے اُس کی مذہبی عبادتوں میں رخنہ ہوتا ہو تو مسلمانوں کو بھی اُس جگہ جنگ نہیں کرنی چاہئے ۔ ہفتم: اگر دشمن خود مذہبی عبادت گاہوں کو لڑائی کا ذریعہ بنائے تو پھر مجبوری ہے ورنہ تم کو ایسا نہ کرنا چاہیے۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے ارد گرد بھی لڑائی نہیں ہونی چاہئے کجا یہ کہ عبادت گاہوں پر حملہ کیا جائے یا ان کو مسمار کیا جائے یا ان کو توڑا جائے ۔ ہاں اگر دشمن خود عبادت گاہوں کو لڑائی کا قلعہ بنا لے تو پھر اُن کے نقصان کی ذمہ داری اُس پر ہے اس نقصان کی ذمہ داری مسلمانوں پر ۔ نہیں ۔ هشتم: اگر دشمن مذہبی مقاموں میں لڑائی شروع کرنے کے بعد اُس کے خطرناک نتائج کو سمجھ جائے اور مذہبی مقام سے نکل کر دوسری جگہ کو میدان جنگ بنا لے تو مسلمانوں کو اس بہانہ سے اُن کے مذہبی مقاموں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے کہ اس جگہ پر پہلے اُن مانہ انکے مذہبی پہنچانا کہ پر کے دشمنوں نے لڑائی شروع کی تھی بلکہ فوراً اُن مقامات کے ادب اور احترام کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے حملہ کا رُخ بھی بدل دینا چاہئے ۔ نہم: لڑائی اُس وقت تک جاری رکھنی چاہئے جب تک کہ مذہبی دست اندازی ختم ہو جائے اور دین کے معاملہ کو صرف ضمیر کا معاملہ قرار دیا جائے ۔ سیاسی معاملوں کی طرح اس میں دخل اندازی نہ کی جائے ۔ اگر دشمن اس بات کا اعلان کر دے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو خواہ وہ حملہ میں ابتدا کر چکا ہو اُس کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہئے ۔ (3) فرماتا ہے قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرُ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ ۚ وَإِنْ يَعُودُو فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينَ - وَقَاتِلُوهُمُ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ