سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 152

ة صلى الله سيرة النبي علي 137 جلد 7 سے اپنی جیبیں بھرنے کے اور اپنی حالت سدھارنے کے غرباء کی خبر گیری اور امن کے قیام اور فساد کے دور کرنے اور قوم اور ملک کو ترقی دینے کی کوشش کرنے کو اپنا مقصد بنانا چاہئے ۔ (2) پھر فرماتا ہے وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقْتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقْتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاء الْكَفِرِينَ - فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ وَقُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ 125 - یعنی اُن لوگوں سے جو تم سے جنگ کر رہے ہیں تم بھی محض اللہ کی خاطر جس میں تمہارے اپنے نفس کا غصہ اور نفس کی ملونی شامل نہ ہو جنگ کرو اور یاد رکھو کہ جنگ میں بھی کوئی ظالمانہ فعل اختیار مت کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو بہر حال پسند نہیں کرتا۔ اور جہاں کہیں بھی تمہاری اور اُن کی جنگ کے ذریعہ سے مٹھ بھیڑ ہو جائے وہاں تم اُن سے جنگ کرو اور یونہی اِکا دُکا ملنے والے پر حملہ مت کرو۔ اور چونکہ انہوں نے تمہیں لڑائی کے لئے نکلنے پر مجبور کیا ہے تم بھی اُنہیں اُن کے جواب میں لڑائی کا چیلنج دو اور یاد رکھو کہ قتل اور لڑائی کی نسبت دین کی وجہ سے کسی کو دکھ میں ڈالنا زیادہ خطرناک گناہ ہے۔ پس تم ایسا طریق مت اختیار کرو کیونکہ یہ بے دین لوگوں کا کام ہے۔ اور چاہیئے کہ تم مسجد حرام کے پاس اُن سے اُس وقت تک جنگ نہ کرو جب تک وہ جنگ کی ابتدا نہ کریں کیونکہ اس سے حج اور عمرہ کے راستہ میں روک پیدا ہوتی ہے ۔ ہاں اگر وہ خود ایسی جنگ کی ابتدا کریں تو پھر تم مجبور ہوا اور تمہیں جواب دینے کی اجازت ہے ۔ جو لوگ عقل اور انصاف کے احکام کو رد کر دیتے ہیں اُن کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر انہیں ہوش آ جائے اور وہ اس بات سے رک جائیں