سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 146

سيرة النبي علي صلى الله 131 جلد 7 جارحانہ کارروائی نہیں کی تھی یعنی کسی حملہ میں خود ابتدا نہیں کی تھی جس سے یہ سمجھا جائے کہ اب وہ اپنے آپ کو کفار کے اثر سے آزاد سمجھتے ہیں ۔ ان حالات میں مسلمانوں کی ۔ طرف سے صلح کی پیشکش کے صرف یہ معنی ہو سکتے تھے کہ وہ اب دفاع سے تنگ آگئے ہیں اور کچھ دے دلا کر اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں ۔ ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ان حالات میں اگر مسلمان صلح کی پیشکش کرتے تو اس کا نتیجہ نہایت ہی خطرناک ہوتا اور یہ امر ان کی ہستی کے مٹا دینے کے مترادف ہوتا۔ اپنی جارحانہ کارروائیوں میں ناکامی کی وجہ سے کفار عرب میں جو بے دلی پیدا ہو گئی تھی اس صلح کی پیشکش سے وہ فوراً ہی نئی امنگوں اور نئی آرزوؤں میں بدل جاتی اور یہ سمجھا جاتا کہ مسلمان با وجود مدینہ کو تباہی سے بچا لینے کے آخری کامیابی سے مایوس ہو چکے تھے۔ پس صلح کی تحریک مسلمانوں کی طرف سے کسی صورت میں بھی نہیں کی جا سکتی تھی ۔ اگر کوئی صلح کی تحریک کر سکتا تھا تو یا مکہ والے کر سکتے تھے یا کوئی تیسری ثالث قوم کر سکتی تھی ۔ مگر عرب میں کوئی ثالث قوم باقی نہیں رہی تھی ۔ ایک طرف مدینہ تھا اور ایک طرف سارا عرب تھا ۔ پس عملی طور پر کفار ہی تھے جو اس تجویز کو پیش کر سکتے تھے مگر اُن کی طرف سے صلح کی کوئی تحریک نہیں ہو رہی تھی ۔ یہ حالات اگر سو سال تک بھی جاری رہتے تو قوانین جنگ کے ماتحت عرب کی خانہ جنگی جاری رہتی ۔ پس جبکہ مکہ کے لوگوں کی طرف سے صلح کی تجویز پیش نہیں ہوئی تھی اور مدینہ کے لوگ کفار عرب کی ماتحتی ماننے کے لئے کسی صورت میں تیار نہیں تھے تو اب ایک ہی راستہ کھلا رہ جاتا تھا کہ جب مدینہ نے عرب کے متحدہ حملہ کو بیکار کر دیا تو خود مدینہ کے لوگ باہر نکلیں اور کفار عرب کو مجبور کر دیں کہ یا وہ اُن کی ماتحتی قبول کر لیں یا اُن سے صلح کر لیں اور اسی راستہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔ پس گو یہ راستہ بظاہر جنگ نظر آتا ہے لیکن در حقیقت صلح کے قیام کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ کھلا نہ تھا ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو ممکن ہے جنگ سوسال تک لمبی چلی جاتی جیسا کہ ایسے ہی حالات میں پرانے زمانہ میں جنگیں