سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 144

سيرة النبي علي صلى الله 129 جلد 7 مسلمانوں کے غلبہ کا آغاز اس جنگ سے فا ، فارغ ہونے کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج سے کفار عرب ہم پر حملہ نہیں کریں گے یعنی مسلمانوں کا ابتلا اپنی آخری انتہا کو پہنچ گیا ہے اور اب اُن کے غلبہ کا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔ اس وقت تک جتنی جنگیں ہوئی تھیں وہ ساری کی ساری ایسی تھیں کہ یا تو کفار مدینہ پر چڑھ کے آئے تھے یا اُن کے حملوں کی تیاریوں کے روکنے کے لئے مسلمان مدینہ سے باہر نکلے تھے لیکن کبھی مسلمانوں نے خود جنگ کو جاری رکھنے کی کوشش نہیں کی ۔ حالانکہ جنگی قوانین کے لحاظ سے جب ایک لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو اُس کا اختتام دو ہی طرح ہوتا ہے یا صلح ہو جاتی ہے یا ایک فریق ہتھیار ڈال دیتا ہے لیکن اس وقت تک ایک بھی موقع ایسا نہیں نے کا ایک فرق تھا ڈال رہا ہے وقت تک ایک بھی انسا نہیں آیا جبکہ صلح ہوئی ہو یا کسی فریق نے ہتھیار ڈالے ہوں ۔ پیس گو پرانے زمانہ کے دستور کے مطابق لڑائیوں میں وقفہ پڑ جاتا تھا لیکن جہاں تک جنگ کے جاری رہنے کا سوال تھا وہ متواتر جاری تھی اور ختم نہ ہوئی تھی اس لئے مسلمانوں کا حق تھا کہ وہ جب بھی چاہتے دشمن پر حملہ کر کے اُن کو مجبور کرتے کہ وہ ہتھیار ڈالیں لیکن مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب وقفہ پڑتا تھا تو مسلمان بھی خاموش ہو جاتے تھے۔ شاید اس لئے کہ ممکن ہے کفار درمیان میں صلح کی طرح ڈالیں اور لڑائی بند ہو جائے ۔ لیکن جب ایک لمبے عرصہ تک کفار کی طرف سے صلح کی تحریک نہ ہوئی اور نہ انہوں نے مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈالے بلکہ اپنی مخالفت اور جوش میں بڑھتے ہی چلے گئے تو اب وقت آگیا کہ لڑائی کا دوٹوک فیصلہ کیا جائے یا دونوں میں سے ایک فریق ہتھیار ڈال دے تا کہ ملک میں امن قائم ہو جائے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کی