سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 142

صلى الله سيرة النبي علي 127 جلد 7 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا مسلمانوں پر نہیں بلکہ موسیٰ پر اور تورات پر اور اُن یہودیوں پر ہے جنہوں نے غیر قوموں کے ساتھ ہزاروں سال اس طرح معاملہ کیا تھا اور جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کے لئے بلایا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہم سعد کی بات مانیں گے ۔ جب سعد نے موسی کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا تو آج عیسائی دنیا شور مچاتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کیا ۔ کیا عیسائی مصنف اس بات کو نہیں دیکھتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے موقع پر کیوں ظلم نہ کیا ؟ سینکڑوں دفعہ دشمن نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم پر اپنے آپ کو چھوڑا اور ہر دفعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو معاف کر دیا۔ یہ ایک ہی موقع ہے کہ دشمن نے اصرار کیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو نہیں مانیں گے بلکہ فلاں دوسرے شخص کے فیصلہ کو مانیں گے اور اُس شخص نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اقرار لے لیا کہ جو میں فیصلہ کروں گا اُسے آپ مانیں گے۔ اس کے بعد اُس نے فیصلہ کیا بلکہ اُس نے فیصلہ نہیں کیا اُس نے موسی کا فیصلہ دہرا دیا جس کی امت میں ہونے کے یہود مدعی تھے ۔ پس اگر کسی نے ظلم کیا تو یہود نے اپنی جانوں پر ظلم کیا جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ اگر کسی نے ظلم کیا تو موسی نے ظلم کیا جنہوں نے محصور دشمن کے متعلق تو رات میں خدا سے حکم پا کر یہی تعلیم دی تھی ۔ اگر یہ ظلم تھا تو ان عیسائی مصنفوں کو چاہئے کہ موسیٰ کو ظالم قرار دیں سے ہو۔ بلکہ موسی کے خدا کو ظالم قرار دیں جس نے یہ تعلیم تو رات میں دی ہے۔ احزاب کی جنگ کے خاتمہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج سے مشرک ہم پر حملہ نہیں کریں گے اب اسلام خود جواب دے گا اور ان اقوام پر جنہوں نے ہم پر حملے کئے تھے اب ہم چڑھائی کریں گے 118۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ احزاب کی جنگ میں بھلا کفار کا نقصان ہی کیا ہوا تھا چند آدمی مارے گئے تھے وہ